طالبان سے مذاکرات پر اعتماد میں نہ لینے پر اپوزیشن کا بائیکاٹ

Image caption قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی بینچوں پر ارکان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی

پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں حزب مخالف جماعتوں نے حکومت کی جانب سے طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر انھیں اعتماد میں نہ لینے پر اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

حزب مخالف جماعتوں کا کہا ہے کہ اگر حکومت نے 11 نومبر تک ایوان کو اعتماد میں نہ لیا تو وہ قومی اسمبلی کا اجلاس ایوان سے باہر منعقد کریں گی۔

دوسری جانب ایوان بالا یعنی سینٹ میں حزب مخالف جماعتوں نے حکومت کے منانے پر ایوان سے باہر ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا اور اب وہ ایوان میں جا کر سینیٹ کی کارروائی کا حصہ بنیں گی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی نے سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن اور دیگر رہنماوں کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ وفاقی وزیرِ داخلہ ایوان میں اپنا وضاحتی بیان پیش کریں گے۔

خیال رہے کہ سینیٹ میں حزب مخالف جماعتوں نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت اور صوبہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق پیش کیے جانے والے اعداد و شمار اور ان کے رویے کے خلاف احتجاج کیا تھا اور وہ گذشتہ دو روز سے ایوان سے باہر سینیٹ کا اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی بینچوں پر ارکان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی اور پارلیمانی امور کے وزیر مملکت شیخ افتاب احمد ایوان میں موجود تھے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نکتۂ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایوان کو چلانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ وزیراعظم چار ماہ میں صرف دو مرتبہ ایوان میں آئے ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ڈرون حملوں اور طالبان سے ہونے والے مذاکرات سے متعلق وزیرِ داخلہ نے ایوان کو آگاہ کرنا تھا لیکن وہ خود ایوان میں موجود نہیں ہیں، اگر ایوان ایسے ہی چلانا ہے تو بہتر ہے اس اجلاس کو ملتوی کردیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ حزب اختلاف جماعتیں چاہتی ہیں کہ حالیہ ڈرون حملے اور تحریکِ طالبان سے شروع ہونے والے امن مذاکرات سے متعلق حکومت ایوان کو اعتماد میں لے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومتی بینچوں پر حاضری نہ ہونے کے برابر تھی اور حزبِ مخالف جماعتیں کورم کی نشاندہی کرسکتی تھیں لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا کیونکہ یہ حساس معاملہ ہے اور اپوزیشن چاہتی ہے کہ حکومت ایوان میں اپنی پوزیشن پیش کرے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف نے اجلاس کی کارروائی کا دو مرتبہ بائیکاٹ کیا جس کے بعد اجلاس 11 نومبر تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

اسی بارے میں