کراچی:صحافی کے قتل کا مقدمہ کراچی سے باہر منتقل

ولی خان بابر
Image caption ولی بابر مقدمے کے چشم دید گواہ اور تفتیشی افسر سمیت چھ افراد کو بھی نشانہ بناکر قتل کیا گیا

پاکستان کی سندھ ہائی کورٹ نے صحافی ولی بابر کا مقدمہ کراچی سے کندھ کوٹ منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

جیو نیوز چینل سے وابستہ صحافی ولی بابر کو جنوری 2011 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں اس وقت ہلاک کیا گیا تھا جب وہ دفتر سے گھر جا رہے تھے۔

ولی بابر مقدمے کے چشم دید گواہ اور تفتیشی افسر سمیت چھ افراد کو بھی مختلف اوقات میں نشانہ بناکر قتل کیا گیا جبکہ پولیس نے پانچ ملزمان کو گرفتار بھی کیا ہے جن کی شناخت فیصل، محمد علی رضوی، شاہ رخ خان، طاہر شاہ اور محمد شکیل کے نام سے کی گئی ہے۔

سندھ حکومت نے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر سندھ ہائی کورٹ سے ولی بابر کا مقدمہ شکارپور منتقل کرنے کی گزارش کی تھی لیکن چیف جسٹس مقبول باقر نے مقدمہ کندھ کوٹ منتقل کرنے کی منظوری دے دی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں قیامِ امن کے مقدمے میں بھی ایڈووکیٹ جنرل جاوید اقبال نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ ولی بابر اور نعمت اللہ رندھاوا ایڈووکیٹ قتل کیس کراچی سے باہر منتقل کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے لیے متعارف کرائے گئے نئے قانون تحفظ پاکستان آرڈیننس میں بھی سنگین نوعیت کے مقدمات کی دوسرے شہروں میں منتقلی کو قانون شکل دی گئی ہے۔

مئی کے اواخر میں کراچی پولیس نے مشتبہ افراد سے مقابلے کے دوران ولی بابر کے قتل میں ملوث مطلوب ملزم کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ کلفٹن میں سی ویو کے قریب چار مشتبہ افراد سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں دو ملزمان اور ایک پولیس اہلکار گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے جنھیں طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس افسر شفیق تنولی نے کہا تھا کہ ہسپتال پہنچ کر ایک مشتبہ شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا جس کی شناخت لیاقت کے نام سے کی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ لیاقت شہری حکومت میں ملازم تھے اور وہ ولی خان بابر کے مقدمۂ قتل میں مطلوب تھے۔ پولیس کے بقول لیاقت کی گاڑی ولی خان بابر کے قتل میں استعمال ہوئی تھی۔

اسی بارے میں