’حقانی نیٹ اور پاکستان کا نقصان‘

Image caption حقانی نیٹ ورک پاکستان کی دوست تصور کیا جاتا ہے

اسلام آباد میں افغانستان کے طالبان ن سے منسلک گروہ حقانی نیٹ ورک کے ایک رہنما نصیر الدین حقانی جو ڈاکٹر نصیر کے نام سے بھی پہنچانے جاتے تھے کو نامعلوم حملہ آووروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ڈاکٹر نصیر حقانی نیٹ ورک کے بانی سربراہ مولوی جلال الدین حقانی کے بیٹے تھے اور مبصرین ان کے قتل کو حقانی نیٹ ورک کے لیے ایک بہت بڑا نقصان قرار دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر نصیرالدین افغانستان کے اندر نہ صرف خود امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں بلکہ وہ حقانی نیٹ ورک کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک سے مالی وسائل حاصل کرنے میں بھی فعال کردار ادا کرتے تھے۔

افغان امور کے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی نے ڈاکٹر حقانی کے قتل کو پاکستان کے لیے بھی ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس کا براہ راست فائدہ امریکہ اور نیٹو افواج اور افغان حکومت کو پہنچنے گا۔

حقانی خاندان افغانستان کے علاقے خوست سے تعلق رکھتا ہے جہاں سے یہ ہجرت کرکے انیس سو اسی میں پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے قریب آ کر آباد ہو گیا تھا۔

سنہ انیس سو اسی سے یہ خاندان شمالی وزیرستان میں آباد ہے اور افغان جنگ کے دوران باقی طالبان گروپوں کی طرح یہ گروپ بھی امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی براہ راست معاونت سے افغانستان کے اندر کارروائیاں کرتا تھا۔ احمد شاہ مسعود کی طرح حقانی گروپ بھی اپنے علاقے خوست میں بڑا با اثر گروپ تصور کیا جاتا تھا۔

سنہ انیس سو نوے میں حقانی گروپ نے خوست شہر پر قبضہ کرکے طالبان کو ایک بڑی کامیابی دلوائی تھی۔

حقانی گروپ کے رہنما جلال الدین حقانی کے ایک بیوی سے آٹھ بیٹے تھے جن میں ڈاکٹر نصیرالدین بھی شامل تھے۔ ان کے ایک صاحبزادے خوست میں ہلاک ہوئے اور دو ڈرون حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔