’فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں‘

Image caption سید منور حسن نے کالعدم تحریکِ طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو ’شہید‘ قرار دیا اور آئی ایس پی آر کے مطابق ایسا بیان ہزاروں پاکستانی معصوم شہریوں اور پاکستانی فوجیوں کی بے عزتی ہے

جماعت اسلامی کے امیر کی جانب سے حکیم اللہ محسود کو شہید کہنے پر فوج کی شدید مذمت کے بعد جماعت نے کہا ہے کہ فوج کو براہ راست ملک کے سیاسی اور جمہوری معاملات میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔

پاکستان کی اہم مذہبی اور سیاسی جماعت کے رہنما لیاقت بلوچ نے یہ بات پیر کو پارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد میڈیا کے سامنے ایک مختصر بیان میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کی صدارت میں ہوا جس میں فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے اس بیان پر بھی بحث ہوئی جس میں جماعت اسلامی کے امیر کی جانب سے ایک ٹی وی پروگرام میں حکیم اللہ محسود کو ’شہید‘ قرار دینے کو ’غیر ذمہ دارنہ اور گمراہ کن‘ قرار دے کر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔

لیاقت بلوچ نے کہا ’اس معاملے پر حکومتِ پاکستان کو الگ متوجہ کیا جا رہا ہے اور فوج کا ملک کی سیاست میں مداخلت کے حق کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔‘

انہوں نے کہا کہ جماعت نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے اور اپر دیر میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے قتل جیسے واقعات کی مذمت کی ہے اور فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

’یہ پریس ریلیزیں اور پالیسی بیان فوج کے ادارے کی نظروں سے کیسے اوجھل رہ گئے؟ اس وقت مطالبہ یہ ہے کہ نیٹو سپلائی بند کی جائے اور ڈرون حملے بند کیے جائیں لیکن خاص گروہ منصوبے کے تحت ضمنی بحثوں میں الجھا رہے ہیں۔‘

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلشنز نے جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کی جانب سے ایک ٹی وی پروگرام میں حکیم اللہ محسود کو ’شہید‘ قرار دینے کو ’غیر ذمہ دارانہ اور گمراہ کن‘ قرار دے کر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

لیاقت بلوچ نے مختصر سی پریس کانفرنس کے بعد سوالوں کے جواب دینے سے گریز کیا۔

یاد رہے کہ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے سید منور حسن کی جانب سے اس بیان کو ان کی جانب سے ’سیاسی فائدے کے لیے پیدا کی گئی منطق‘ کا نتیجہ قرار دیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نقطۂ نظر کے خلاف سامنے آنے والے عوامی ردِ عمل نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ پاکستانی کسے ریاست اور کسے اس کا دشمن مانتے ہیں۔

آئی ایس آر کے بیان میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’شہدا کے خاندانوں اور ان کی قربانیوں کو سید منور حسن سے توثیق کی ضرورت نہیں ہے اور اس طرح کے گمراہ کن اور ذاتیات پر مبنی بیانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم امیر جماعت اسلامی کی جانب سے آنے والا یہ بیان تکلیف دہ اور بدقسمتی ہے کہ جس جماعت کے سربراہ مولانا مودودی اسلام کی خدمات کی وجہ سے عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ان کی جماعت کے سربراہ ایسی بات کر رہے ہیں۔‘

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ سید منور حسن پاکستانی عوام اور فوج کے شہدا کے خاندانوں کے جذبات اور احساسات کو ٹھیس پہنچانے پر غیر مشروط معافی مانگیں جن کے پیاروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں دی ہیں۔

بیان میں یہ بھی توقع ظاہر کی گئی کہ جماعت اسلامی اس موضوع پر اپنا جماعتی موقف واضح کرے۔

یاد رہے کہ یکم نومبر کو پاکستان کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو امریکی ڈرون حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہو گئے تھے۔

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے انہیں شہید قرار دیا جس پر ملک کے مختلف طبقات کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آیا۔

امیر جماعت اسلامی کے اس بیان کے بعد جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی اسی پیرائے میں ایک بیان دیا۔

اسی بارے میں