پرویز مشرف کی چپ۔۔۔

سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف
Image caption مشرف سات ماہ سے اپنے ہی فارم ہاؤس میں قید تھے

سات ماہ تک اپنے ہی فارم میں قید رہنے والے سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف اب آزاد ہیں لیکن مسلسل چپ ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک پر رہائی کی ایک دو خبروں کو اپ لوڈ کرنے اور مختصر پیغام میں اپنے مداحوں اور حامیوں کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ انھوں نے کچھ نہیں کہا۔ ان کی جانب سے جمعے کو ایک پریس کانفرنس بھی متوقع تھی لیکن آج چار روز گزر جانے کے باوجود میڈیا سے جڑے رہنے والے مشرف اسی میڈیا سے رابطہ کرنے میں گریزاں نظر آتے ہیں مگر کیوں ؟

ان کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ پرویز مشرف کی خاموشی کی وجہ سے عوام کا تجسس بڑھ رہا ہے، میڈیا بات کرنے کے لیے کوشاں ہے لیکن اس قسم کی صورتحال میں پہلا بیان دینے سے پہلے سوچ بچار اور مشاورت ہونی چاہیے اور پرویز مشرف بھی یہی کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پرویز مشرف پریس کانفرنس میں پاکستان کے آئندہ سیاسی معاملات پر ایک سیر حاصل قسم کا تبصرہ کریں گے اور بصیرت آموز قسم کی بات کی جائےگی۔

احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ ’عام طور پر سیاستدان جیل کے دروازے سے باہر نکل کر بھڑک پڑتے ہیں اور اگلے چند دنوں میں ان کی ساری باتیں منفی ہو جاتی ہیں‘۔

پرویز مشرف کی خاموشی پر قانونی ماہرین تو کسی قسم کے تبصرے سے گریزاں نظر آتے ہیں تاہم سابق رکن قومی اسمبلی اور معروف کالم نگار ایاز امیر کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کے پاس اب کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں۔

مختلف مقدمات میں سابق صدر کی ضمانت ہو گئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ بیرون ملک جا سکتے ہیں یا نہیں؟

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اُن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہے اس لیے وہ باہر نہیں جا سکتے۔ مگر ان کے وکیل احمد رضا قصوری ایک مختلف قانونی نکتہ بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالے جانے کا عدالتی حکم نامہ عبوری ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’تین چار مہینے قبل سریم کورٹ نے جو آرڈر دیا تھا وہ ختم ہو چکا ہے۔‘

لیکن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جسٹس (ر) طارق محمود کہتے ہیں کہ ایف آئی اے مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی تحقیقات کر رہی ہے اور متعلقہ حکام نے وزارت داخلہ کو پرویز مشرف کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر داخلہ نے بیان دیا تھا کہ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل پر ہے۔ ایسے میں انھیں بیرون ملک جانے سے قبل حکومت سے اجازت لینی ہوگی۔ ان کے پاس دوسرا راستہ یہی ہے کہ وہ عدالت میں جائیں اور اس آرڈر کو چیلنج کریں۔‘

اس تمام صورتحال میں کیا پرویز مشرف کے پاس کوئی محفوظ راستہ بھی ہے؟

قانونی ماہر بابر ستار کہتے ہیں کہ سابق صدر کو محفوظ راستہ ایک صورت میں ہی مل سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ بہانہ کر کے ملک سے باہر چلے جائیں اور پھر واپس ہی نہ آئیں۔ انھوں نے کہا کہ غداری کے مقدمے میں انھیں صرف عدالت ہی بری کر سکتی ہے اور حکومت اس معاملے میں یہ کر سکتی ہے کہ وہ اسے نمٹانے میں تاخیر کرے۔

بابر ستار کا کہنا تھا کہ ’لگ یہ رہا ہے کہ وہ (حکومت) آہستہ آہستہ چل رہے ہیں کیونکہ اور بھی اہم معاملات ہیں فوج کے ساتھ، ابھی ایک نئے سربراہ کو مقرر کرنا ہے، ایک جنگ جاری ہے۔ تو ان حالات میں وہ (حکومت ) اس طرح کا معاملہ سامنے نہیں لے کر آنا چاہتی‘۔

تجزیہ کار عامر متین کہتے ہیں کہ حکومت مشرف کے معاملے پر درمیانی راہ نکالنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔

’یہ ایک سیاسی ڈیل ہے۔ باقی مقدمات اتنے اہم نہیں تھے جتنا غداری کا ہے، مسلم لیگ ن نے اس پر خاص پیش رفت نہیں دکھائی‘۔

پرویز مشرف چپ کیوں ہیں؟

ان کے ساتھ نرمی برتی گئی یا نہیں اس پر ماہرین کی رائے منقسم ہے لیکن اکثریت اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ سابق صدر کی ضمانت، رہائی حتیٰ کہ ملک چھوڑنے کے معاملات سے کہیں بڑے مسائل نے اس ملک کو جکڑ رکھا ہے اور انھیں سنجیدگی سے لینے اور ان کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں