اسلام آباد میں حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما ہلاک

Image caption اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکل سواروں نے نصیرالدین حقانی پر تندور کے باہر فائرنگ کی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافات میں حقانی نیٹ ورک کے ایک اہم رہنما نصیرالدین کو اتوار کی شب گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔

نصیرالدین حقانی کو اسلام آباد کے مضافات میں سملی ڈیم روڈ پر اتوار کے روز فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے نصیرالدین حقانی کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

’نصیر الدین حقانی کا قتل پاکستان کا نقصان‘

’پاکستان کے حقانی گروپ سے روابط کے ثبوت‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ نصیرالدین حقانی کو امریکہ کے کہنے پر پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے قتل کیا ہے اور ہم اس کا بدلہ لیں گے

اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ واضح رہے کہ سملی ڈیم روڈ اسلام آباد سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بھارہ کہو کے علاقے میں ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کے حوالے سے رپورٹ درج کرلی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے کی کوئی رپورٹ درج نہیں کی گئی کیونکہ ان کو کوئی لاش نہیں ملی ہے۔

ہمارے نامہ نگار محمود جان بابر نے بتایا کہ نصیرالدین حقانی کے ایک رشتہ دار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ نصیرالدین حقانی کی نماز جنازہ پیر کو شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے قریب ایک گاؤں میں ادا کردی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں کرفیو ہونے کے باعث بہت کم افراد نے تدفین میں شرکت کی۔

امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے 22 جولائی 2010 میں نصیرالدین حقانی پر مالی پابندیاں عائد کی تھیں۔

امریکہ کے مطابق نصیرالدین حقانی طالبان کے گروہ حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما ہیں۔

وہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کے قریبی ساتھی، فنڈ جمع کرنے والے اور نمائندۂ خصوصی تھے۔

امریکہ کے مطابق وہ سراج الدین حقانی کے بھائی ہیں اور زیادہ تر وقت حقانی نیٹ ورک کے نمائندۂ خصوصی کے طور پر گزارتے تھے اور فنڈز جمع کرتے تھے۔

نصیرالدین حقانی نے کم از کم 2005 سے 2009 تک حقانی نیٹ ورک کے لیے فنڈز جمع کیے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے 2008 میں خلیجی ممالک کا دورہ کیا۔ وہ متحدہ عرب امارات تواتر سے آتے جاتے رہتے تھے۔

امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق سنہ 2007 میں نصیرالدین حقانی نے خلیجی ممالک سے عطیات اکٹھے کیے۔ سنہ 2004 میں وہ فنڈ اکٹھے کرنے کے لیے طالبان کے ایک اور ساتھی کے ہمراہ سعودی عرب گئے۔

امریکہ کے مطابق نصیرالدین حقانی کو ڈاکٹر خان کے نام سے پکارا جاتا تھا۔

رواں سال اپریل میں نیٹو کی افشا ہونے والی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر پناہ لینے والے طالبان رہنماؤں کے بارے میں جانتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نصیرالدین حقانی جیسے سینیئر طالبان رہنما اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے قریب رہائش پذیر ہیں۔پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان نے اپنی سرزمین پر عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں۔

اسی بارے میں