ڈرون حملے مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں: وزیر داخلہ

Image caption امریکی اہلکار پاکستانی افواج پر مختلف تنظیموں کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کرتے ہیں

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ جب تک ڈرون حملے نہیں روکیں گے اُس وقت تک طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھےگا۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں نہ تو پاکستان کی افواج اور نہ ہی پاکستانی حکومت کا کوئی ہاتھ ہے۔

پیر کے روز قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے کیا جانے والا حالیہ ڈرون حملہ کسی شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے تھا۔

امریکہ کی طرف سے کیے جانے والے حالیہ ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Image caption ملا فضل اللہ کے تحریک طالبان کے سربراہ بننے کے بعد مذاکرات کا امکان ختم ہو گیا ہے

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس واقع کے بعد وہ لوگ جو مذاکرات میں پیش پیش تھے اب الگ ہوکر بیٹھ گئے ہیں اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تمام رابطے فی الحال تعطل کا شکار ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دو سے تین ہفتے درکار ہوں گے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جب بھی ڈرون حملوں کی بات کرتے ہیں تو وہ پاکستانی افواج پر مختلف تنظیموں کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف امریکہ پاکستانی افواج کی ہی مدد سے افغانستان میں موجود طالبان کے ساتھ دوحا میں مذاکرات کر رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کے شمالی اتحاد میں شامل تنظیموں کے پاکستانی افواج کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اس کے علاوہ افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کے ساتھ بھی موجودہ حکومت کے اچھے تعلقات ہیں۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میجر جنرل ثناء اللہ نیازی کی ہلاکت کے بعد فوج میں بہت زیادہ غم وغصہ پایا جاتا تھا تاہم فوج کی قیادت نے امن کو ایک موقع دینے کے لیے اس معاملے پر حکومت کا ساتھ دیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ڈرون حملوں میں بحثیت قوم ہم نے امریکہ کے ساتھ اُس طرح کا احتجاج نہیں کیا جس طرح کا کرنا چاہیے تھا۔

اُنہوں نے کہا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کو اس ضمن میں پوری قوم کو اعتماد میں لے کر امریکہ کے خلاف سخت احتجاج کرنا چاہیے تھا۔

اسی بارے میں