حقانی کے قتل پر حکام کی لاعلمی اور عینی شاہدین کی خاموشی

نصیر الدین حقانی
Image caption نصیر الدین حقانی کو بارہ کہو کے مقام پر ایک تندور کے سامنے گولیان ماری گئیں۔

حقانی نیٹ ورک کے رہنما نصیر الدین حقانی کے اسلام آباد کے مضافات میں اتوار کی شب قتل پر وہی پرانا سوال کہ القاعدہ سے منسلک ایک اہم رہنما پاکستانی پولیس اور انٹیلی جنس کی نظروں سے اوجھل کیسے رہے؟

سرکاری طور پر اب تک ان میں سے کسی سوال کا جواب نہیں مل سکا۔ شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نصیرالدین حقانی کے جسم پر 26 گولیوں کے نشانات تھے۔

انہوں نے بتایا کہ نصیرالدین حقانی کی لاش کو انتظامیہ کی معاونت سے اسلام آباد کے مضافاتی قصبے بارہ کہو سے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔

سرکاری اہلکار کے مطابق نصیر الدین حقانی تقریباً چار سال سے بارہ کہو میں رہائش پزیر تھے اور دو سے تین مکان ان کے زیر استعمال تھے۔

سپیشل برانچ کے پاس موجود کوائف کے مطابق نصیرالدین حقانی نے مقامی لوگوں کو اپنا نام نصیرالدین خان بتا رکھا تھا۔ انہوں نے اپنا آبائی علاقہ بنوں اور ذریعۂ معاش حکمت بتایا تھا۔

یہ واقعہ بارہ کہو پولیس سٹیشن سے محض آدھا کلومیٹر دور ایک تندور کی دکان پر پیش آیا۔ مقامی تھانے کے سب انسپیکٹر ارشد علی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کسی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں اور نہ ہی کسی نے کوئی بیان دیا ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مذکورہ دکان پر ایک شخص زخمی ہوا تھا جس کے والد نے نامعلوم افراد کے خلاف رپورٹ درج کروائی اور اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

اتوار کی شب جس وقت یہ واقعہ پیش آیا سبھی دکانیں کھلی تھیں، لیکن عینی شاہدین میں سے صرف چند ہی آنکھوں دیکھا حال بتانے پر راضی ہوئے۔

ایک ہوٹل کے مالک محمد وحید بتاتے ہیں کہ موٹر سائیکل سواروں نے کالے رنگ کی پراڈو سے اترنے والے ایک شخص پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’گاڑی میں موجود دوسرا شخص اپنے زخمی ساتھی کو لے کر ہسپتال کی طرف دوڑا لیکن چند منٹ بعد ہی وہ گاڑی واپس لے کر شاہ پور کی طرف چلا گیا، شاید زخمی شخص مر چکا تھا۔‘

عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے دس منٹ بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور تندور بند کر کے وہاں ایک پولیس اہلکار کو تعینات کر دیا۔

اسی سڑک پر محمد واصف کریانے کی دکان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت وہ کھانا کھا رہے تھے، پہلے تو یہ سمجھے کہ شاید کسی کی شادی ہو رہی ہے اور فائرنگ کی جا رہی ہے مگر پھر لوگ اکھٹے ہونا شروع ہو گئے تو وہ بھی باہر کی جانب دوڑے۔

’میں نے دیکھا کہ وہاں ایک شخص زخمی پڑا ہے لوگ اس کے اردگرد کھڑے تھے اور اس کےدس منٹ بعد ایک اور گاڑی شاہ پور کی جانب سے وہاں آئی اور پھر وہ اس زخمی شخص کو لے کر چلے گئے۔‘

اہل علاقہ یہ تو بتاتے ہیں کہ ہلاک ہونے والا شخص سملی ڈیم روڈ کے قریب شاہ پور نامی علاقے میں رہتا تھا لیکن یہ بتانے سے گریزاں نظر آتے ہیں کہ نصیرالدین حقانی کا مکان ہے کون سا؟

شاہ پور کی مرکزی سڑک پر مختلف پراپرٹی ڈیلروں کی دکانیں اور دفاتر ہیں۔ جائیداد کی خرید و فروخت کا کام کرنے والے فرمان اللہ کے دفتر میں خاصی ہلچل دیکھنےکو ملی جہاں ایک پولیس اہلکار بیٹھا نظر آیا۔

فرمان اللہ نے بتایا کہ ’اس وقت بھی یہاں پولیس اور ایجنسی کے لوگ ہیں اور وہ نصیر الدین حقانی سے متعلق پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔‘

یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ شاید فرمان اللہ ’نصیرالدین خان‘ یعنی نصیرالدین حقانی کی رہائش گاہ سے باخبر ہیں مگر انہوں نے بھی مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ واقعے کے وقت علاقے میں موجود نہیں تھے۔

فرمان اللہ کا کہنا تھا: ’میں تبلیغی اجتماع سے اسی رات لوٹا تھا، بہت کوشش کی کہ پتہ چل سکے کہ ہلاک یا زخمی ہونے والا شخص کون تھا، کس مکان میں رہتا تھا، لیکن کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ نہ ہی کسی گھر میں کسی کی موت کی خبر ملی اور نہ ہی کل کوئی تدفین ہوئی ہے۔‘

ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ نصیر الدین حقانی کی ہلاکت شاید کاروباری شخصیت خلیل زردان کے قتل اور دونوں جانب ہونے والے کاروباری جھگڑے کا نتیجہ ہے۔

ایسے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں کہ یہ افغان انٹیلی جنس کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ تاہم ان اطلاعات کو اس دلیل کے ساتھ مسترد کیا جا رہا ہے کہ افغان صدر نے ایسے کسی اقدام کی اجازت نہیں دی اور افغان انٹیلی جنس اس قسم کی کارروائی کی اہلیت ہی نہیں رکھتی۔

نصیرالدین حقانی کی ہلاکت کس کی ایما پر ہوئی، پاکستان اس سے کس حد تک آگاہ تھا اور اس نے کس سطح پر معاونت فراہم کی ہو گی، یہ بات بھی شاید اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی طرح ایک معما ہی رہے گی۔

اسی بارے میں