فوج کے غازی اور شہید ہمارے محسن: نواز

Image caption مئی میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ میاں نواز شریف کا بّری فوج کے ہیڈ کوارٹر کا پہلا دورہ تھا

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے منگل کو بّری فوج کے ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو کے دورے کے موقع پر کہا کہ ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کرنے والے غازی اور شہید ہمارے محسن ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے دورے کے دوران مزید کہا کہ پاکستان کی قوم فوج کی خدمات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

طالبان کا منور حسن کے بیان کا خیر مقدم

’فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں‘

’دہشت گردوں کو شہید کہنا، فوج کی توہین ہے‘

اس سے پہلے وزیر اعظم کو جی ایچ کیو پہنچنے پرگارڈ آف آنر دیا گیا اور انہوں نے’شہدا کی یادگار‘ پر پھول چڑھائے اور اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہونے والے بّری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی۔

وزیراعظم کو جی ایچ کیو میں قومی اور اندرونی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے قدرتی آفات سے نمٹنے کی کوششوں اور مشرقی اور مغربی سرحدوں پر فوج کی مصروفیات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ ’افواج پاکستان نے جنگ اور امن کے دوران بھر پور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور مسلح افواج کا ہر افسر اور جوان جذبۂ حب الوطنی کے تحت میدان میں اترتا ہے۔ جذبہ شہادت اور حب الوطنی ہماری فوج کی قوت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان کے نذرانے پیش کرنے والے نوجوانوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔‘

اس سے پہلے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے جی ایچ کیو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر کی جانب سے حکیم اللہ محسود کو شہید کہنے پر فوج کی مذمت سیاست میں مداخلت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کا بیان عوامی احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ جی ایچ کیو ’شہدا‘ کے ساتھ یکجہتی منانے کے لیے ہے۔

ایک سوال کے جواب میں پرویز رشید نے کہا کہ جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کی طرف سے وزیر اعظم کو کوئی خط موصول نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلشنز نے جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کی جانب سے ایک ٹی وی پروگرام میں حکیم اللہ محسود کو ’شہید‘ قرار دینے کو ’غیر ذمہ دارانہ اور گمراہ کن‘ قرار دے کر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے سید منور حسن کی جانب سے اس بیان کو ان کی جانب سے ’سیاسی فائدے کے لیے پیدا کی گئی منطق‘ کا نتیجہ قرار دیا۔

اس بیان کے جواب میں جماعت اسلامی نے پیر کو کہا کہ فوج کو براہ راست ملک کے سیاسی اور جمہوری معاملات میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔

تجزیہ کار وزیر اعظم کے اس دورے کو کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حکومتی کوششوں اور نومبر کے آخر میں جنرل کیانی کے ریٹائر ہونے کے حوالے سے اہم قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جنرل کیانی نے پچھلے ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ 28 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ تاہم ابھی تک حکومت نے نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔

گذشتہ دنوں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان 28 نومبر کو ہو گا جس روز جنرل کیانی ریٹائر ہوں گے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا تھاکہ وزیراعظم کو جی ایچ کیو میں کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات اور حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔

اسی بارے میں