’نئے آرمی چیف کی تعیناتی سنیارٹی کی بنیاد پر کی جائے‘

Image caption چار رکنی بینچ میں کوئی بھی ایسا جج شامل نہیں ہے جو لانگ مارچ کی وجہ سے اپنے عہدے پر بحال ہوا

چیف جسسٹس افتخار محمد چوہدری نے بری فوج کے نئے سربراہ کی تعیناتی سے متعلق دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت کے لیے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں چار رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔

یہ لارجر بینچ تیرہ نومبر کو اس درخواست کی سماعت کرے گا۔

یہ درخواست شاہد اورکزئی نے دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس سال مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سنیارٹی کی بنیاد پر کی جائے گی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق درخواست گُزار کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق اس اہم اور حساس عہدے کے لیے مدت ملازمت کو نہیں بلکہ پیشہ وارانہ مہارت کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر مدت ملازمت کو ہی اصول بنا لیا گیا تو پھر فوج کے پیشہ وارانہ امور میں کمی آئے گی۔

درخواست گُزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اُن کی درخواست کی سماعت میں وہ جج شامل نہ کیے جائیں جنھیں پاکستان مسلم لیگ نون کی طرف سے سنہ دو ہزار آٹھ میں عدلیہ کی بحالی کے لیے کیے جانے والے لانگ مارچ کے بعد اُن کے عہدوں پر بحال کیا گیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ اس لانگ مارچ کی وجہ سے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مداخلت پر اُس وقت کی حکومت نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اُن دیگر ججز کو بحال کیا تھا جنھیں سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تین نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گھر بھیج دیا تھا۔

اس درخواست کی سماعت کرنے والے چار رکنی بینچ میں کوئی بھی ایسا جج شامل نہیں ہے جو اس لانگ مارچ کی وجہ سے اپنے عہدے پر بحال ہوا ہو۔ اس درخواست کی سماعت کرنے والے دیگر ججز میں جسٹس ثاقب نثار، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اقبال حمید الرحمن شامل ہیں۔

اس بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک بھی اُن ججز میں شامل تھے جنھیں پرویز مشرف نے پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے پر گھر بھیج دیا تھا۔ تاہم سابق فوجی صدر کے دوسرے عبوری حکم نامے کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے دور میں ہی جسٹس ناصر الملک اپنے عہدے پر بحال ہو چکے تھے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ شاہد اورکزئی کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر چکی ہے کہ وہ اس میں متاثرہ فریق نہیں ہیں۔

اسی بارے میں