الیکشن کمیشن کی درخواست واپس، ’کمیشن قابل عمل تاریخ کا اعلان کرے‘

Image caption قومی اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات کے شیڈیول پر نظرِ ثانی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں توسیع کے لیے دائر کی گئی الیکشن کمیشن کی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کردی ہے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے دفتر کا کہنا ہے کہ عدالت پانچ نومبر کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر فیصلہ دے چکی ہے لہٰذا الیکشن کمیشن متفرق درخواست نہیں دے سکتا۔

’ابھی بلدیاتی الیکشن نہ کرائیں‘

دوسری جانب قومی اسمبلی نے منگل کو ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے جس میں الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے قابل عمل تاریخ کا اعلان کرے۔

الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں توسیع سے متعلق الیکشن کمیشن کی درخواست مسترد ہونے کے بعد کمیشن مقررہ تاریخوں پر کروانے کے لیے اپنے تئیں کوششیں جاری رکھے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے جو تاریخیں دی ہیں اُنھی تاریخوں پر الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ان انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند افراد کو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اُن کا ووٹ کس یونین کونسل میں ہے اور اُن کا ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر یا اسسٹنٹ ریٹرننگ افسر کون ہے۔

اہلکار کے مطابق پنجاب حکومت نے دس نومبر کو انتخابی فارم میں تبدیلی کرکے اُس میں ختم نبوت کا خانہ شامل کیا ہے اُس کو بھی ابھی تک پرنٹنگ کاپوریشن نے ابھی تک نہیں چھاپا۔

اُدھر قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن ڈاکٹر عارف محمود علوی نے ایک قرارداد ایوان میں پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو مارچ تک ملتوی کیا جائے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جلد بازی میں کروائے جانے والے انتخابات جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔

یہ قرارداد قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ جمعرات کو قومی اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول پر نظرِ ثانی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی۔

یہ قرارداد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ایوان میں پیش کی تھی اور اس متفقہ قرارداد میں کہا گیا کہ بلدیاتی الیکشن کے لیے بیلٹ پیپرز نجی پرنٹنگ پریس سے چھپوائے جانے کی صورت میں غلطی کا احتمال بہت زیادہ ہے اس لیے ان کی چھپوائی پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان ہی سے کروائی جائے۔

اسی بارے میں