کراچی: گلشن بونیر میں رینجرز کی کارروائی، تین مبینہ دہشت گرد ہلاک

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بدھ کی صبح رینجرز اہلکاروں کے ساتھ مبینہ مقابلے میں تین مشتبہ طالبان سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لانڈھی ٹاؤن کے علاقے گلشن بونیر میں صبح سویرے رینجرز نے ایک اطلاع پر طالبان کی ایک خفیہ رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، جہاں مبینہ طالبان دہشت گردوں اور رینجرز اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

’ ہم صرف دیکھتے ہی رہ جائیں گے‘

’کراچی میں لائسنس یافتہ اسلحے کی تصدیق کا حکم‘

رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں چار مبینہ طالبان اور ایک رینجرز اہلکار علی اکبر ہلاک ہوگیا۔ تاہم طالبان قرار دیے گئے تینوں افراد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

رینجرز کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ مبینہ طالبان دس محرم الحرام کو تخریب کاری کا منصوبہ بنا رہے تھے اور رینجرز نے جائے وقوعہ سے ہتھیار اور دستی بم بھی برآمد کیے ہیں۔

مقامی میڈیا نے رینجرز ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق تحریک طالبان حکیم اللہ محسود گروپ سے ہے تاہم رینجرز کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی تردید کی ہے۔

Image caption فائرنگ کے تبادلے میں چار مبینہ طالبان اور ایک رینجرز اہلکار علی اکبر ہلاک ہوگیا ہے

گلشن بونیر کے علاقے میں گزشتہ چند سالوں سے شدت پسند سرگرم رہے ہیں۔ یہاں تقریباً ایک سال قبل دو پولیو ورکروں کو ہلاک کیا گیا تھا اور گزشتہ عام انتخابات کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے دفتر کے قریب بم دھماکہ کیا گیا، جس کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔

گنجان آبادی کے اس علاقے میں محسود قبیلے کے لوگوں کی اکثریت آباد ہے۔ ایک لمبے عرصے تک پولیس اور رینجرز ان علاقوں میں جانے سے کتراتی رہی ہے۔

گلشن بونیر میں حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمان گروہوں کے درمیان بھی کشیدگی رہی ہے۔ اکتوبر میں فائرنگ کے ایک واقعے میں حکیم اللہ محسود گروپ کے امیر حاتم محسود ہلاک ہوگئے تھے اور پولیس کا کہنا تھا کہ حاتم وزیرستان سے آئے تھے اور ان پر ایک مخالف گروہ نے حملہ کیا تھا۔

اسی بارے میں