ہزاروں کو سعودی عرب سے ملک بدری کا خطرہ

Image caption سعودی عرب سے جہاں شمالی افریقہ، انڈیا، انڈونیشیا، فلپائین اور دیگر ممالک کے غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری ہے

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق سعودی عرب میں معاش کی غرض سے مقیم غیر ملکیوں کے لیے نئے قوانین کے نفاذ کے بعد سے 54 ہزار پاکستانیوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے جب کہ ہزاروں پاکستانی مزدورں کو نئے قوانین کی خلاف ورزی پر قید، جرمانے اور ملک بدری کی سزائیں سنائے جانے کا خطرہ ہے۔

ریاض میں موجود پاکستانی سفیر محمد نعیم نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ سعودی عرب میں 15 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں۔

سعودی عرب میں پولیس اور غیر ملکی کارکنوں میں تصادم

سعودی عرب سے جہاں شمالی افریقہ، انڈیا، انڈونیشیا، فلپائن اور دیگر ممالک کے غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری ہے، وہاں پاکستانی وزارتِ خارجہ کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی کارکنوں کو سفارت خانے کی کوششوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

محمد نعیم خان نے کہا کہ جب ملازمت کے نئے قوانین متعارف کروائے جا رہے تھے تو انہوں نے سعودی حکومت سے رعایت کی بات کی تھی۔

انہوں نے کہا: ’ہم نے شروع سے اس مسئلے کو سمجھا اور یقین جانیے کہ ہمارے کہنے پر سعودی حکومت نے تارکینِ وطن کے کاغذات پورے نہ ہونے پر ملک بدری کی تاریخ آگے بڑھا دی۔‘

انہوں نے کہا کہ انہوں نے شاہ عبداللہ کہ صاحبزادے اور نائب وزیرِ خارجہ عبد العزیز بن عبداللہ سے ملاقات کی اور رعایت کی درخواست کی۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کی وزارتِ محنت کے مطابق اس سال مئی سے تین نومبر تک آٹھ لاکھ پاکستانیوں کو قانونی حیثیت دی گئی جبکہ 54 ہزار پاکستانی اپنی مرضی سے واپس لوٹ گئے ہیں جن کی ویزے کی مدت ختم ہو چکی تھی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سنہ 2008 سے قبل حج یا عمرے کے لیے سعودی عرب گئے تھے۔

پاکستانی سفیر نے مزید بتایا کہ چار قسم کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا تھا، ایک وہ جنہوں نے اپنا پیشہ بدلا تھا، دوسرا جن کے کفیل کے ساتھ ملازمت نہیں رہی، تیسرے جو حج اور عمرے کے لیے گئے مگر وہاں رک گئے اور چوتھے جنہوں نے اپنی نوکریاں چھوڑ دی تھیں۔

محمد نعیم خان نے کہا کہ آٹھ لاکھ پاکستانیوں کو قانونی حیثیت دلوانے کے لیے پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے اور پاکستانی برادری کے تعاون سے آگاہی کی مہم چلائی جس میں ذرائع ابلاغ شامل تھے اور دور دراز علاقوں میں ٹیمیں بھی بھیجوائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ چھ ماہ کے اندر صبح سے شام تک کیمپ لگا کر بڑی تعداد میں لوگوں کے کاغذات درست کیے گئے۔

پاکستان میں حسبِ مخالف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے حکومتِ پاکستان کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس کی وجہ سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

12 نومبر کو عوامی نیشنل پارٹی کے تین سینیٹروں افرسیاب خٹک، زاہد خان اور امر جیت نے ایوانِ بالا میں اسی سلسلے میں تحریکِ التوا جمع کروائی۔ سینیٹر زاہد خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ غیر قانونی پاکستانی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کا معاملہ اگلے اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ کا دعویٰ درست نہیں ہو سکتا اور وہ اس حوالے سے اپنے طور پر اعداد و شمار جمع کر رہے ہیں جو سینیٹ کے اگلے اجلاس میں پیش کریں گے: ’ہم ثابت کر دیں گے کہ یہ اعداد و شمار غلط ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام بہت پریشان ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ جب سے سعودی عرب میں ملازمت کے نئے قوانین کی بات شروع ہوئی ہے، عوامی نیشنل پارٹی نے حکومتِ پاکستان کو متنبہ کرنے کی کوشش کی لیکن حکومت خاموش رہی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا خاموشی کی وجہ سعودی عرب کے ساتھ غیر متوازن تعلقات ہیں؟ تو انہوں کہا: ’ہمارے لوگوں نے محنت مزدوری کر کے سعودی عرب کو آباد کیا۔ ہم امریکہ سے ڈرتے ہیں، چین سے ڈرتے ہیں، سعودی عرب سے ڈرتے ہیں۔ اتنے کمزور ہوں گے تو اپنے لوگوں اور قوم کے تحفظات کیسے دور کریں گے؟‘

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں، خاص کر صوبہ خیبر پختونخوا میں، بے روزگاری کی شرح دہشت گردی کی وجہ سے بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے مشرقِ وسطی سے آنے والا زرِ مبادلہ انتہائی اہم ہے۔

ادھر محمد نعیم خان کا کہنا ہے کہ جن پاکستانیوں کی حیثیت اب بھی غیر قانونی ہے، سفارت خانہ ان کے لیے اندراج کی مہم چلا رہا ہے: ’ہم نے ملک کے مختلف علاقوں اور شہروں میں 78 مرکز قائم کیے ہیں جہاں اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کے کتنے لوگ کس وجہ سے غیر قانونی ہیں، پشتو اور اردو میں فارم موجود ہوں گے۔ جب یہ معلومات ہمارے پاس آئیں گی، تو ہم دوبارہ سعودی حکومت سے رابطہ کریں گے۔‘

خیال رہے کہ غیر قانونی پاکستانی تارکینِ وطن میں زیادہ تر مزدور ہیں، اور ان میں بڑی تعداد کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ ان کے لیے اپنے ویزے کی درستگی کے لیے تین نومبر کی تاریخ گزر چکی ہے اور اگر پاکستانی سفارت خانے کی کوششیں ناکام رہیں تو ہزاروں لوگوں کو قید اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا، یا انہیں ملک بدر کیا جائے گا۔

اسی بارے میں