’طالبان غصے میں ہیں، مذاکرات نہیں ہو سکتے‘

Image caption ملا فضل اللہ کے طالبان کے سربراہ بننے سے بہت سے مبصرین کے خیال میں مذاکرات کے دروازے بند ہو گئے ہیں

مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ حکومت طالبان سے مذاکرات کے لیے ماحول کے سازگار ہونے کا انتظار کرے گی جس میں چند ماہ لگ سکتے ہیں۔

بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان اپنے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر ابھی غصے میں ہیں لہٰذا جب تک ان کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔‘

اس بابت ان کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے آئندہ دو یا تین ماہ میں مذاکرات کے لیے دوبارہ کوشش کی جاسکتی ہے: ’فوجی کارروائی آخری راستہ ہوگا کیونکہ ہم مذاکرات کو موقع دینا چاہتے ہیں۔ ہم طالبان کے انکار کے باوجود مذاکرات کی ہی بات کریں گے۔‘

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گذشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں فی الحال روک دی گئی ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان کے نئے سربراہ ملا فضل اللہ کیا ایسے طالبان رہنما ہیں جن سے حکومت بات کرسکتی ہے؟ اس سوال پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا: ’ہاں وہ ایک سخت گیر موقف والی شخصیت ہیں لیکن ہوسکتا ہے اس مرتبہ ان کے ساتھ مذاکرات سودمند ثابت ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بعض شدت پسند گروہ حکومت سے مذاکرات کے حامی ہیں اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں آنا چاہتے ہیں۔

مذاکرات کے بارے میں فوجی قیادت کےموقف پر رانا تنویر کا کہنا تھا کہ فوجی اور سیاسی قیادت کا ایک موقف ہے: ’دونوں مکمل طور پر ایک ہی سوچ رکھتے ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں۔‘

امریکہ کے کردار کے بارے میں رانا تنویر کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کا حامی ہے جیسے کہ وہ دوحہ مذاکرات کے حق میں تھا۔ لیکن حکیم اللہ کی ہلاکت کے بارے میں ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ امریکہ انتظار کرسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی امریکیوں کی جانب سے اس ہلاکت پر پاکستانی احتجاج کے نتیجے میں کوئی ردعمل سرکاری سطح پر نہیں موصول ہوا ہے۔

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں