کراچی:امام بارگاہوں پر بم حملے، چھ مبینہ شدت پسند ہلاک

Image caption پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے محرم کے دس روز یعنی عشرہ محرم کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دو امام بارگاہوں پر تین بم حملوں میں کم از کم 15 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ پولیس نے ایک علیحدہ کارروائی میں چھ مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امام بارگاہوں پر یہ بم حملے ایسے موقعے پر ہوئے ہیں جب حکومت نے محرم کے موقعے پر سخت سکیورٹی انتظامات کرنے کے دعوے کیے ہیں۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ہلکی نوعیت کا پہلا دھماکہ نارتھ ناظم آباد کے علاقے پہاڑ گنج میں واقع امام بارگاہ کے باہر کھڑی گاڑی میں ہوا جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت دو افراد زخمی ہو گئے۔

یہ بم دھماکہ تقریباً رات کے ساڑھے نو بجے ہوا جس کے بعد وہاں پولیس اہلکار اور صحافی جمع ہو گئے۔

رینجرز کی کارروائی، تین مبینہ دہشت گرد ہلاک

پہلے دھماکے کے آدھے، پونے گھنٹے بعد دوسرا دھماکہ ہوا جس میں وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں اور صحافیوں سمیت 11 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کا کہنا ہے کہ دونوں دھماکے ریموٹ کنٹرول سے کیے گئے۔

تیسرا واقعہ نارتھ کراچی سیکٹر تیرہ بی میں پیش آیا جہاں ایک امام بارگاہ پر دستی بم حملے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر سی آئی ڈی پولیس کے ایس ایس پی چوہدری اسلم نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سی آئی ڈی پولیس کی ایک کارروائی کے دوران دس محرم کو دہشت گردی کی کارروائی کا منصوبہ بنانے والے چھ مبینہ عسکریت پسندوں ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ اس کارروائی میں پولیس کے تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مبینہ شدت پسند حب کی طرف سے آ رہے تھے کہ پولیس پارٹی انھیں روکا جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ انھوں نے کہا یہ مبینہ شدت پسند دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں ملوث تھے۔

انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے مبینہ شدت پسندوں کا تعلق کالعدم لشکرِ جھنگوی سے تھا اور یہ کارروائی سمندر کے قریب ایک علاقے لکی پہاڑی کے نزدیک ایک مقام پر کی گئی ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے مخلتف شہروں میں موبائل سروس معطل کر دی گئی ہے۔

پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے محرم کے دس روز یعنی عشرہ محرم کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں لیکن اس بار کالعدم تحریکِ طالبان کی جانب سے ممکنہ پرتشدد کارروائیوں کے پیشِ نظر ان انتظامات میں غیر معمولی اضافہ نظر آتا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں پولیس اور رینجرز کے ساتھ فوج کے جوانوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے، ماتمی جلوس کی گزر گاہ ہوں کو دو روز پہلے ہی کنٹینروں کی مدد سے سیل کردیا گیا ہے۔

مجالس اور ماتمی جلوسوں میں سکیورٹی کا پہلا حصار اسکاؤٹس کا ہوتا ہے، جو مجالس کے اندر اور باہر اور جلوس میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔

جسمانی تلاشی لینا ناطق حسین سمیت کئی اسکاؤٹس کی ذمہ داری ہے: ’ ہمارا کام ہے کہ سکیورٹی فراہم کرنا باقی اللہ کی ذات ہے، ہم اپنی طور احتیاط کر رہے ہیں آگے پیچھے دیکھے رہے ہیں، تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچ سکیں۔‘

کراچی میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی ہے۔

شہر میں محرم سے ایک روز پہلے اور یکم محرم کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر فائرنگ میں دس افراد ہلاک ہوئے، گذشتہ روز رینجرز نے تخریب کاری کی ایک کارروائی بھی ناکام بنانے کا دعویٰ کیا جس میں تین مشتبہ طالبان اور ایک رینجرز اہلکار ہلاک ہوگیا۔

اسی طرح پشاور شہر کا اندرونی علاقہ سیل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ کیمرے اور جیمرز نصب کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی کے انتظامات پولیس کے ساتھ ایف سی کے حوالے ہیں۔

ایس پی پشاور اسماعیل کھڑک کا کہنا ہے کہ فوج کو آن کال رکھا گیا ہے اور سکیورٹی کے لیے ساڑہ چار ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں۔

لاہور میں مجالس اور ماتمی جلوسوں کی نگرانی کے لیے 16 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں جبکہ منتظمین نے نجی اداروں سے بھی محافظوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔

کراچی کی طرح لاہور میں بھی موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے اور حکومت نے لاہور میں موبائل فون سروس معطل رکھنے کے لیے وفاقی حکومت سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں بھی دس محرم الحرام کو انتظامیہ نے فول پروف سکیورٹی اقدامات کرنے کے دعوے کیے ہیں یہاں بھی ڈبل سواری پر پابندی ہے جبکہ جلوسوں میں شناختی کارڈ لے کر چلنا لازمی ہے۔ لیکن اسلام آباد کی مرکزی امام بارہ گاہ کے سکیورٹی انچارج محسن بخاری اس سے مطمئن نہیں۔

’جس طرح کے حالات ہیں ان میں جو سکیورٹی کے انتظامات ہونے چاہیے تھے وہ نہیں ہیں، صرف دکھانے کی حد تک سکیورٹی ہے جو باعث تشویش ہے۔ ہمارا اپنی سکیورٹی پر زیادہ انحصار ہے۔‘

کوئٹہ میں شیعہ ہزار کمیونٹی گذشتہ چند سالوں سے مسلسل نشانے پر ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس سال غیر معمولی انتظامات کے ساتھ پہلی بار ماتمی جلوسوں کی ہیلی کاپٹروں سے فضائی اور کیمروں سے زمینی نگرانی کی جائےگی۔

یہ انتظامات اپنی جگہ لیکن طالبان کی دھمکی کے باعث خوف ہراس کی فضا برقرار ہے کیونکہ عام شہری انتخابات میں بھی دہشت گردانہ واقعات کا سامنا کرچکے ہیں۔

اسی بارے میں