عمران نے ہمیں کیا چھوڑنا تھا، ہم عمران کو چھوڑتے ہیں‘

Image caption خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں قومی وطن پارٹی کے اراکین کی تعداد دس ہے اور اس جماعت کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی نے بھی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔

قومی وطن پارٹی کے صوبائی صدر کے مطابق صوبائی حکومت کو احکامات اسلام آباد میں بنی گالہ سے موصول ہوتے ہیں۔

عمران خان نے شیرپاؤ کو آؤٹ کر دیا

خیال رہے کہ اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران حان کی رہائش گاہ ہے۔

قومی وطن پارٹی کے صوبائی صدر سکندر حیات شیرپاؤ نے اپنی رہایش گاہ پر ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ انھوں نے سینیئر وزیر کے عہدے سے استعفیٰ گورنر خیبر پحتونخوا کو بھجوا دیا ہے اور اب وہ حزب اختلاف کا حصہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں۔

سکندر شیرپاؤ نے تحریک انصاف کی قیادت پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ کہ صوبے میں حکومت کا اختیار کہیں نظر نہیں آتا، اتحادی جماعتوں سے کسی قسم کی کوئی مشاورت نہیں کی جاتی تھی اور اس کے علاوہ حکومت امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق یہ الزامات انھوں نے تحریک انصاف کے اس فیصلے کے بعد عائد کیے ہیں جس میں تحریک انصاف نے قومی وطن پارٹی کے دو وزراء کو بدعنوانی کے الزام میں عہدوں سے فارغ کر دیا اور عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے کہا کہ قومی وطن پارٹی کو اتحاد سے فوری طور پر خارج کر دیا جائے۔

قومی وطن پارٹی کے رہنما بخت بیدار کے پاس وزارت محنت و افرادی قوت اور ماہی پروری کا قلمدان تھا جبکہ مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے ابرار حسین کے پاس جنگلات کی وزارت تھی۔

ان دونوں وزراء پر الزام تھا کہ انھوں نے کرپشن کی ہے اور جماعت کی قیادت کو دو بار اس کی تنبیہ کی گئی لیکن قومی وطن پارٹی نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جس کی بعد ان دونوں وزراء کو فارغ کیا گیا ہے ۔

سکند شیرپاؤ نے جمعرات کو اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت پر سیاسی دباؤ ہے اور جو دعوے تحریک انصاف نے کیے تھے اب وہ پورے نہیں کر سکتے، اس لیے فرار کے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کا ایک خط دکھایا جو بظاہر عمران خان کی جانب سے تھا اور اس میں خیبر پختونخوا میں تیل اور گیس کے محکمے میں چیف ایگزیکٹو کی تعیناتی کے لیے ایک شحض کی سفارش کی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسے ثبوت ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اس طرح کی کاموں میں ملوث ہے جبکہ ان کے قومی وطن پارٹی کے جن وزراء پر الزامات عائد کیے گئے ہیں اس بارے میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

ان سے جب پوچھا کہ یہ الزامات تحریک انصاف کے اقدامات سے پہلے کیوں نہیں عائد کیے گئے تو انھوں نے کہا کہ ابھی مذید ثبوت ان کے پاس موجود ہیں جو وقت آنے پر ظاہر کریں گے۔

اس اخباری کانفرنس میں بڑی تعداد میں کارکن، اراکین اسمبلی اور وہ وزراء بھی موجود تھے جن پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

Image caption ابرار حسین نے تحریک انصاف کے رہنما عمران خان اور جہانگیر ترین پر بھی الزامات عائد کیے

ان میں ابرار حسین موجود تھے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تحریک انصاف کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جائیں گے۔

انھوں نے تحریک انصاف کے رہنما عمران خان اور جہانگیر ترین پر بھی الزامات عائد کیے کہ وہ ان کی جماعت کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

سکندر شیرپاؤ نے کہا کہ ان کے وزراء اتوار کے بعد اخباری کانفرنس کریں گے جس میں وہ بتائیں گے کہ ان کی وزارتوں میں کون مداخلت کرتا تھا اور ان کے ساتھ کیا کچھ ہوا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے اس اقدام سے قومی وطن پارٹی کو ایک سیاسی دھچکا لگا ہے اور اس کانفرنس میں ان الزامات کو رد کرنے کی ایک کوشش کی گئی ہے۔

اسی بارے میں