رائے ونڈ کے اجتماع میں مذہبی رواداری کا درس

لاہور کے نواح میں رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع کے بعد لاکھوں کارکن ایک غیر روایتی پیغام لے کر ملک بھر میں تبلیغ کے لیے پھیل گئے ہیں۔ یہ غیر روایتی پیغام مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں بھائی چارے کا فروغ ہے۔

رائے ونڈ کے تبلیغی ایک خاموش مذہبی طاقت ہیں اور پاکستان کے مردوں کی اکثریت کو زندگی میں کبھی نہ کبھی ان سے واسطہ پڑ ہی جاتا ہے۔

پاکستان میں عیسائی، ہندو اور بعض مسلم اقلیتی مسلک کےافراد ہرسال جان لیوا حملوں کا شکار ہوتے ہیں۔ شاید اسی لیے لاہور کے نواح رائے ونڈ میں ہونے والے حالیہ مذہبی اجتماع میں یہ پہلی بار ہوا کہ تبلیغی کارکنوں کو خصوصی طور پر بتایا گیا کہ دیگر فرقوں اور مذاہب کے افراد سے تعلقات کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے۔

رائے ونڈ کا اجتماع حج اور بنگلہ دیش کے تبلیغی اجتماع کے بعد مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع سمجھا جاتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس برس پندرہ لاکھ افراد نے شرکت کی۔ان لاکھوں افراد نے اس مرتبہ وہ خطبات سنے جن میں حقوق اللہ پر زور دینے کی برسوں پرانی روایت سے بڑھ کرفرقہ واریت سے اجتناب اور غیر مسلموں سے اچھے برتاؤ کی تلقین کی گئی۔

رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع کے منتظمین اور مقررین تو میڈیا پر نہیں آتے لیکن اس اجلاس میں شریک ایک باریش نوجوان عدنان ولید نے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو ہر سال احترام انسانیت کا درس دیا جاتا ہے لیکن اس بار خصوصی طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ اچھا مسلمان وہ ہے جو سب انسانوں سے بلا تفریق مذہب و فرقہ پیار کرے اور یہی پیغام میں بھی اپنی تبلیغ کا حصہ بناؤں گا۔

بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے سرگرم پاکستان علماء کونسل نے رائے ونڈ کے اجتماع میں اپنا سٹال لگانا ضروری سمجھا۔ پاکستان علماء کونسل کے سربراہ مولانا طاہر اشرفی باقاعدگی سے تمام روز اجتماع میں گئے اور پولیو ویکسین اور عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں کتابیں، رسالے اور جرائد بانٹتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال کے اجتماع میں مقررین نے کہا ہے کہ جہاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمان مسلمان کا گلا کاٹے، ایک دوسرے کو قتل کرے بلکہ جہاد کا اصل مقصد اپنے نفس پر قابو پانا ہے۔

رائے ونڈ کا اجتماع ختم ہوچکا اور تبلیعی کارکن گروہ بنا کر نگر نگر گلی گلی تبلیغ کر رہے ہیں۔

کراچی سے آنے والے معمر تبلیغی کارکن محمد فاروق کے واپس جانے میں چند دن باقی ہیں۔ انہوں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور لاہور کے گلی کوچوں سے ہی تبلیغ شروع کردی۔ انہوں نے کہا کہ تبلیغی کارکن کبھی فرقہ واریت پر یقین نہیں رکھتے اور وہ یہی تبلیغ کر رہے ہیں کہ تمام فرقے اور تمام نسلوں کے لوگ یہی سمجھیں کہ وہ ایک ماں کے پیٹ سے نکلے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ان حالات میں جبکہ پاکستان فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار ہے، مذہب سے بالاتر ہوکر انسانیت کے احترام کی تبلیغ خصوصی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔

اسی بارے میں