راولپنڈی: کرفیو میں نرمی کے باوجود شہر میں خوف و ہراس

Image caption راولپنڈی شہر کے مختلف علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کے بعد فوج تعینات کر دی گئی ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں یوم عاشور کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی اور ہلاکتوں کے بعد پنجاب کے مختلف شہروں میں کئی مقامات پر فوج طلب کر لی گئی ہے۔

راولپنڈی میں سینیچر کو سارا دن کرفیو کا نفاذ رہا تاہم رات نو بجے سے بارہ بجے کے درمیان کرفیو میں تین گھنٹے کی نرمی کی گئی۔

راولپنڈی کے بعد ملتان اور بہاولنگر کے علاقے چشتیاں کے علاوہ کئی مقامات پر کشیدگی کی اطلاعات ملی ہیں اور انتظامیہ نے فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔

’نرمی کی تو مولوی ٹائپ مشتعل لوگ آ گئے‘

راولپنڈی میں کرفیو، دیگر شہروں میں کشیدگی

راولپنڈی میں کرفیو، عدالتی تحقیقات کا اعلان

راولپنڈی میں فسادات اور دکانیں نذر آتش: تصاویر

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق راولپنڈی میں یوم عاشور کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تصادم کے بعد ابھی تک شہر شدید کشیدگی کا ماحول ہے اور کرفیو سے متاثرہ علاقوں میں محصور افراد سکیورٹی خدشات اور غدائی قلت کی شکایات کر رہے ہیں۔

Image caption ملتان میں کشیدگی کے بعد فوج طلب کی گئی جو مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہے

یاد رہے کہ جمعہ کے روز راولپنڈی میں ایک ماتمی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی اور پھر تصادم کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہو گئے۔ شدید کشیدگی کے باعث کئی مقامات پر کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

نامہ نگاروں کے مطابق راولپنڈی شہر کی جانب جانے والے مرکزی راستے بند ہیں اور پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ تاہم چھوٹے راستوں سے فرقہ وارانہ کشیدگی سے متاثرہ علاقوں کے قریب پہنچا جا سکتا ہے جہاں فوج کے اہلکاروں نے چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں اور اس کے آگے نو گو ایریا ہے جہاں صرف ایمولینس، فائر بریگیڈ اور فوج کی گشت کرتی اور لاؤڈ سپیکر پر لوگوں کو خبردار کرتی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔

’کم از کم بچوں، خواتین کو باہر نکلنے دیں‘

جمعے کے روز ہونے والے واقعے کے نتیجے میں اس آگ کے نتیجے میں درجنوں دکانیں جلا دی گئیں اور شہر میں مختلف امام بارگاہوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا جن میں امام بارگاہ قدیمی اور حفاطت علی شاہ کی امام بارگاہ میں آتشزدگی سے کافی نقصان پہنچا۔

راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے رکن شیخ رشید احمد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی میں ہونے والا واقعہ انتظامیہ کی ناکامی ہے اور مطالبہ کیا کہ جن دکانداروں کا نقصان ہوا ہے انہیں معاوضہ ادا کیا جائے۔

شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ اس واقعے میں ملوث افراد مقامی نہیں تھے۔

Image caption ملتان میں گذشتہ رات شروع ہونے والے کشیدگی کے بعد اب مشتعل مظاہرین پر قابو پانے کے لیے پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات ہے

عینی شاہدوں نے بتایا کہ شہر کے کچھ علاقوں میں خوف کا یہ عالم ہے کہ لوگوں نے اپنے اہلِ خانہ کو حفاظت کے نقطۂ نظر سے گھروں سے نکال کر دوستوں اور عزیزوں کے گھروں میں منتقل کر دیا ہے۔

مختلف علما نے جن میں مولانا سمیع الحق بھی شامل ہیں لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے جبکہ سنیچیر کو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کئی علما سے رابطہ کیا اور ان سے شہر میں امن کی بحالی کے لیے درخواست کی۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے راولپنڈی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ سے درخواست کریں گے کہ اس واقعے کی تحقیقات کسی سینیئر جج کی نگرانی میں کروائی جائیں۔

بہاولنگر، چشتیاں

Image caption راولپنڈی میں فساد کے واقعے کے بعد ملک کے دوسرے شہروں میں بھی کشیدگی کے باعث فوج طلب کر لی گئی

صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولنگر کے علاقے چشیاں میں بھی عاشورہ کے موقع پر کشیدگی کے بعد ایک امام بارگاہ کو آگ لگا دی گئی۔

چستیاں کے ضلعی رابطہ افسر اطہر اسماعیل نے بتایا کے گذشتہ شام بھٹہ کالونی کے علاقے میں واقع ایک چھوٹی امام بارگاہ میں ایک ذاکر کی متنازع تقریر پر اہل علاقہ مشتعل ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد نے امام بارگاہ پر حملہ کر دیا اور صفوں کو آگ لگا دی۔

اطہر اسماعیل کے مطابق آگ سے صرف صفوں اور امام بار گاہ کے مرکزی دروازے کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا پولیس نے موقعے پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کر لیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’متنازع تقریر کرنے والے ذاکر کا تعلق مریدکے سے تھا اور وہ واقعے کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے ہیں‘۔

بہاولنگر کے ضلعی رابطہ افسر نے بتایا کے یہ خبر صبح پوری چشتیاں میں پھیل چکی تھی اور صبح اس مقام پر دس ہزار کے قریب مشعل افراد جمع ہو گئے جنہیں پولیس نے فوج کی مدد سے منتشر کیا۔

انہوں نے بتایا کے سکیورٹی فورسز نے لوگوں کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

انہوں نے بتایا کے اس وقت علاقے میں صورتحال کشیدہ ہے اور تمام امام بارگاہوں اور حسّاس علاقوں میں پولیس کے ہمراہ فوج بھی تعینات ہے۔

ملتان

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ملتان میں گدشتہ رات شروع ہونے والے کشیدگی کے بعد اب مشتعل مظاہرین پر قابو پانے کے لیے پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات ہے۔

ملتان سے نامہ نگار ظہیر الدین بابر کے مطابق اندرون ملتان میں اہل سنت و الجماعت کے کارکن سڑکوں پر آگ لگا کر مظاہرے کر رہے ہیں ان کا الزام گذشتہ رات اہل تشیع کے جلوس میں صحابہ کرام کی شان میں گستاخی ہوئی۔

اس لیے بطور احتجاج سنیچر کی صبح ملتان میں شٹر ڈاؤن کرایا گیا جبکہ احتجاج کے دوران فائرنگ ہوئی جس میں کم سے کم ستائیس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

حکام نے اہل سنت و الجماعت کے ملتان میں سربراہ انور شاہ سمیت مقامی سربراہان اور متعدد علما کو بلا کر مشتعل ہجوم کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔

ملتان کے کئی علاقوں میں سُنی مسلمانوں نے مظاہرے کیے اور ٹائروں کو آگ لگا کر سڑکیں بلاک کردیں۔ ان علاقوں میں گھنٹہ گھر، لالا ولی محمد، بوڑھ چوک اور سوتری واٹ کے علاقے شامل ہیں۔

اسی بارے میں