اب تو نام، پتہ، عقیدہ پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں رہی

Image caption وہ مسلمان کہاں غائب ہوگئے جو نہ شیعہ ہیں نہ سُنی؟

جو چند باتیں آج تک سمجھ میں نہیں آ سکیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ محمد علی شیعہ اور علی محمد سُنی ایک دوسرے پر چھری کیوں نکال لیتے ہیں اور اس کے بعد بھی دونوں کیوں سینہ ٹھونک کے کہتے ہیں کہ اللہ، رسول اور کتاب نہ شیعہ ہیں نہ سُنی بلکہ تینوں علامتیں مسلمانوں کی ہیں۔

تو پھر یہ مسلمان کہاں پائے جاتے ہیں جن کی یہ علامتیں ہیں؟ اور اگر یہ تینوں علامتیں مسلمانوں کی ہیں تو پھر شیعہ اور سُنی ان مسلمانوں کے درمیان کیسے گھس گئے اور وہ مسلمان کہاں غائب ہوگئے جو نہ شیعہ ہیں نہ سُنی؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان شیعوں اور سُنیوں کو مسلمان دشمن طاقتوں نے چھوڑ دیا ہو اور رفتہ رفتہ شیعہ اور سُنی اہلِ اسلام پر اس قدر غلبہ حاصل کر گئے ہوں کہ اہلِ اسلام نے اپنی بقا کے لیے اپنی شناخت ہی چھپا لی ہو؟

اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ان دنوں اگر کوئی خود کو صرف مسلمان کہنے پر مصر ہو تو شیعہ اور سُنی اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ صورتِ حال اور پیچیدہ ہوجاتی ہے جب شناختی کارڈ پر لکھا ہو صمصام حسین ولد عمر فاروق یا محمد عثمان ولد دلاور علی۔ تب پیٹھ سے کپڑا اٹھا کے دیکھا جاتا ہے یا پھر یہ کہ گلے میں تعویذ ہے کہ نہیں۔ شلوار ٹخنے سے اونچی ہے کہ نیچی۔ انگلی میں موجود انگوٹھی سادہ ہے کہ نقشین۔ بال چھوٹے ہیں کہ زلف نما ہیں۔ داڑھی دو مٹھی ہے کہ خشخشی۔

اور تب بھی اندازہ نہ ہو کہ مسلمانی کا یہ دعوے دار اصل میں شیعہ ہے کہ سُنی تو پھر دل ہی دل میں ٹاس کرکے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ یہ داخلِ جنت ہوگا کہ واصلِ جہنم۔ اور پھر اس کا ٹکٹ کٹ جاتا ہے۔۔۔

متحدہ ہندوستان کا زمانہ اچھا تھا کہ برا یہ تو میں نہیں جانتا، البتہ یہ سہولت ضرور تھی کہ رام گوپال، گورمیت سنگھ، ڈیوڈ فرنانڈیس، غلام علی اور جمشید جی بہروچا صاف پہچانے جاتے تھے اور انہیں اپنی بات کہنے سے پہلے مخاطب کو پیشگی تولنا نہیں پڑتا تھا۔ وجہ شاید یہ تھی کہ رنگ و نسل و مذہب کی بوقلمونی کے سبب ایک قدرتی سماجی توازن قائم تھا اور شدید سے شدید اختلاف یا جھگڑا جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے سے پہلے ہی راستے میں بجھ جایا کرتا تھا۔ یہ دوسری بات ہے کہ تقسیم کے وقت جو قتل وغارت ہوئی اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ سیاسی ایجنڈا تھا۔

پاکستان میں بھی جب تک مشرقی پاکستان شامل رہا تو رنگ و نسل و عقیدے کا توازن کسی حد تک برقرار رہا اور کسی ایک انداز کی شدت پسندی پھیلنے سے قاصر رہی۔ مگر 1971 کے بعد جب یہ توازن یک طرفہ ہوگیا تو پھر بالا دست کو اپنی بالا دستی اور کمزور کو اپنی بقا کی تلاش نے بدگمانیوں کے راستے پر ڈال دیا۔

آپ دیکھیں کہ 1971 سے پہلے متحدہ پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا کیا گراف تھا اور 1971 کے بعد کے اکہرے پاکستان میں یہ گراف کہاں تک پہنچا۔ اور اب تو نام، پتہ، عقیدہ پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ بدعقیدگی کی صفائی کے لیے خود کش ٹیکنالوجی متعارف ہو چکی ہے۔ اس سے بھی جو بچ جائے تو اس کے لیے ٹارگٹ کلنگ تیار ہے۔

میرے والد کے دوست شفیق علی خان سے تمام اہلِ محلہ تاحیات شاکی رہے۔ کیونکہ وہ ہر نماز کے بعد باآوازِ بلند دعا مانگتے تھے کہ اے اللہ اسلام کو شیعوں اور سُنیوں سے بچا لے ۔۔۔ لیکن جب چار جولائی 1977 کو ان کا انتقال ہوا تو ایک نمازِ جنازہ جامع مسجد کے امام نے اور دوسری امام بارگاہ کے علامہ نے پڑھائی۔ اگلے روز ضیاء الحق کی حکومت آگئی۔

اسی بارے میں