پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کا آغاز: چوہدری نثار

Image caption سپریم کورٹ سابق فوجی صدر کے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور عدالت کا کہنا ہے کہ اُن کے اقدامات آئین سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف پیر سے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمے کا آغاز کر رہی ہے۔

یہ بات انہوں نے اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق 26 جون کو تشکیل کی گئی انکوائری کمیٹی نے16 نومبر کو اپنی رپورٹ حکومتِ پاکستان کو بھیج دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے رپورٹ پر غور و فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ حکومت پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلائے گی۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو کل ایک خط بھیجے گی جس میں اس کارروائی کے لیے تین رکنی کمیشن بنانے کی درخواست ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اب چیف جسٹس سپریم کورٹ نے نشاندہی کرنی ہے کہ کون سے ایسے تین ہائی کورٹ ہیں جہاں سے اس کمیشن کے لیے ارکان لیے جا سکتے ہیں اور پھر حکومت متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رابطہ کرے گی تاکہ کمیشن کے ججوں کی نشاندہی کی جائے۔

وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ پیر کے روز حکومت ایک پبلک پراسیکیوٹر (استغاثہ) کا اعلان بھی کرے گی جو کہ حکومت کی طرف سے اس کیس کی پیروی کریں گے۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ گذشتہ پانچ ماہ کے اقتدار کے دوران ان کی حکومت کا کوئی بھی عمل ایسا نہیں تھا ’جس سے انتقام کی بو آئے‘۔

واضح رہے کہ اس سال جون میں ڈپٹی اٹارنی جنرل دل محمد خان علی زئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نے سیکریٹری داخلہ سے کہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ کو ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کریں جس میں ایسے پولیس افسران کو شامل کیا جائے جو کہ غیرجانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔

اس کے علاوہ یہ تحقیقاتی ٹیم سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے اقدامات سے متعلق شواہد اکھٹے کرے گی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ سابق فوجی صدر کے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور عدالت کا کہنا ہے کہ اُن کے اقدامات آئین سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔

اس سے قبل اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق وفاق کا جواب سپریم کورٹ میں پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت اس ضمن میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرے گی۔

اسی بارے میں