’جہاں میں رہتا ہوں وہاں پر صرف افواہیں ہیں اور وہ بھی خوفناک‘

Image caption لیاقت باغ کے میدان میں تین افراد کی نماز جنازہ کے فوراً بعد شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے

اتوار کی شام راولپنڈی سانحے میں ہلاک ہونے والوں کی پرامن نماز جنازہ کے بعد شہریوں نے سکھ کا سانس تو لیا ہے تاہم شہر کے بیشتر علاقوں میں خوف کے سائے بدستور منڈلا رہے ہیں۔

راولپنڈی کی انتظامیہ نے لیاقت باغ کے میدان میں تین افراد کی نماز جنازہ کے فوراً بعد شہر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے اور شہر کے متاثرہ علاقوں میں ایک بار پھر ہو کا عالم ہے۔

راولپنڈی میں کرفیو، دیگر شہروں میں کشیدگی: تصاویر

’جیسے ہی تھوڑی نرمی کی مولوی ٹائپ مشتعل لوگ آ گئے‘

اتوار کی سہ پہر جب کرفیو میں نرمی کی گئی تو شہر کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں مدرسوں کے طلبہ دکھائی دیے جن کا رخ لیاقت باغ کی جانب تھا۔

اس کے علاوہ کرفیو سے متاثرہ علاقوں کے رہنے والے اشیائے خوردو نوش کی تلاش میں سرگرداں نظر آئے۔

شہر کے تشدد سے متاثرہ علاقے کی جانب تو کرفیو میں نرمی کے باوجود جانا ممکن نہیں تھا کیونکہ فوج اور پولیس کی بھاری نفری نے اس علاقے کے گرد قریباً تین کلومیٹر تک سیکیورٹی حصار بنا رکھا ہے۔

شہر کے دیگر علاقوں میں بھی کرفیو نہ ہونے کے باوجود نقل و حرکت خاصی مشکل ہے۔ فوج اور پولیس کے دستوں نے شہر میں مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر رکھی ہے اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کو محدود کر رکھا ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں لوگ پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں یا پھر موٹر سائیکل استعمال کر رہے ہیں۔

شہر کے اس علاقے میں جہاں یہ واقعہ ہوا، حالات سخت کشیدہ ہیں لیکن باقی شہر میں بھی خوف کی فضا موجود ہے۔ تاہم شہر کے چند مضافاتی علاقوں میں سبزیوں اور خوردونوش کی چھوٹی دکانیں کھلنا شروع ہوگئی ہیں۔

شہر میں مختلف قسم کی افواہیں گردش کر رہی ہیں اور حکومتی خاموشی ان افواہوں کو تقویت فراہم کر رہی ہے۔

راولپنڈی کے علاقے صدر میں اشیائے خوردونوش کی تلاش میں موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوانوں نے بتایا کہ وہ کھانے پینے کی اشیا تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شہر میں ہوا کیا ہے۔

’ٹیلی وژن دیکھ کر تو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ ہوا کیا ہے۔ ایک مسجد پر حملے میں چند افراد ہلاک ہوئے ہیں یا پھر معاملہ اس سے زیادہ سنگین ہے۔‘

مری روڈ پر لیاقت باغ کی جانب جانے والے ایک نوجوان نے کہا کہ وہ کالج روڈ پر رہنے والے اپنے ایک دوست سے ملنے جا رہا ہے تاکہ معلوم کر سکے کہ اصل صورتِ حال کیا ہے:

’جہاں میں رہتا ہوں وہاں پر تو صرف افواہیں ہیں۔ اور وہ بھی اتنی خوفناک ہیں کہ میں گھبرا کر خود ہی چل پڑا کہ معلوم کروں کہ حقائق کیا ہیں؟‘

شہر کے اس حصے سے جوں جوں دور ہوتے جائیں افواہیں مزید بڑھتی جاتی ہیں۔ راولپنڈی کے باسی ایک دوسرے سے پوچھتے نظر آتے ہیں کہ جمعے کی شام متاثرہ مسجد کے اندر اور باہر ایسا کیا ہوا کہ پوری سرکاری مشینری خوف کا شکار نظر آ رہی ہے۔

چکلالہ سکیم کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ کہیں کوئی گڑبڑ ضرور ہے اور حکومت عوام سے کچھ نہ کچھ ضرور چھپا رہی ہے:

’راولپنڈی میں اس سے پہلے بھی دہشت گردی اور فرقہ واریت کے واقعات ہوئے ہیں اور بدقسمتی سے اس سے زیادہ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں لیکن شہر پر جو خوف اس وقت طاری ہے اس کی نہ کوئی مثال ملتی ہے اور نہ ہی کوئی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔‘

اسی بارے میں