راولپنڈی: ’حالات میں بہتری‘، متعدد افراد گرفتار

Image caption اس سے قبل شہر میں نافذ کیا جانے والا کرفیو ختم ہونے پر پیر کو احتجاجی مظاہروں کے بعد حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئے تھے

پاکستان کے شہر راولپنڈی میں یومِ عاشور کے جلوس کے دوران پرتشدد فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو شہر کے حالات بہتر ہو رہے ہیں اور اس واقعے میں ملوث 40 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل شہر میں نافذ کیا جانے والا کرفیو ختم ہونے پر پیر کو احتجاجی مظاہروں کے بعد حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئے تھے۔

اس کے علاوہ منگل کی صبح پنجاب حکومت نے راولپنڈی میں یوم عاشور کے موقع پر تسلی بخش حفاظتی انتظامات نہ کیے جانے کی بنا پر ریجنل پولیس افسر راولپنڈی زعیم اقبال شیخ اور سٹی پولیس افسر بلال صدیق کمیانہ کو ان عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔

’جہاں میں ہوں وہاں صرف خوفناک افواہیں ہیں‘

’کشیدگی میں بعض سرکاری اہلکاروں کا کردار مشکوک‘

’ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے‘

منگل کی صبح بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کمشنر راولپنڈی خالد مسعود چوہدری نے کہا کہ شہر میں صورتحال قدرے پر امن ہے تاہم دفعہ 144 ابھی بھی نافذ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یومِ عاشور پر ہونے والی پرتشدد فرقہ وارانہ جھڑپوں کے ذمہ داران کو پکڑنے کے لیے پولیس کوششیں کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اب تک تقریباً 40 افراد کو زیرِ حراست لیا گیا ہے۔

دفعہ 144 اٹھانے کے حوالے سے کمشنر راولپنڈی نے کوئی حتمی وقت دینے سے انکار کیا اور کہا کہ ان جھڑپوں کے ذمہ دار افراد کی گرفتاری کی صورت میں شہر میں مختلف عناصر امن و امان خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور اسی لیے دفعہ 144 ابھی تک نافذ ہے۔

راولپنڈی پولیس کنٹرول روم کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کا انتظامی کنٹرول پولیس کے پاس ہے اور شہر میں فوج اب نہ ہونے کے برابر ہے۔

خالد مسعود چوہدری نے بتایا کہ شہر کے چند متاثرہ علاقوں میں رینجرز کو تعینات کیا گیا ہے تاہم اس کا مقصد املاک کی حفاظت کرنا اور غیر ضروری افراد کو جائے وقوع سے دور رکھنا ہے۔

ریڈیو پاکستان نے راولپنڈی کے ضلعی افسر سجاد ظفر کے حوالے سے بتایا ہے کہ راولپنڈی میں جمعے کو ہونے والے واقع میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ جبکہ زخمیوں کو 75 ہزار روپے کے چیک دیے گئے ہیں۔

ضلعی افسر نے بتایا کہ منگل کو راولپنڈی میں تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے۔

اس کے علاوہ کمشنر خالد مسعود چوہدری نے بھی بتایا کہ راولپنڈی میں کشیدگی کے دوران املاک کے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

Image caption راولپنڈی شہر کی جانب جانے والے تمام مرکزی راستے کرفیو کے باعث بند کر دیے گئے تھے

اس سے پہلے صوبہ پنجاب کے وزیرِ قانون کے مطابق اس واقعے میں زخمی ہونے والے مزید ایک شخص کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد دس ہوگئی ہے۔

راولپنڈی کی پولیس کے مطابق پیر کی صبح کرفیو اٹھائے جانے کے بعد شہر میں جمعہ کو ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

راجہ بازار اور کالج روڈ کے علاقے میں سینکڑوں مظاہرین نے متاثرہ مدرسے کے باہر اور راجہ بازار کے علاقے میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مظاہرین نے تین دن کے وقفے کے بعد کھلنے والی دکانوں پر بھی پتھراؤ کیا جس کے بعد دکانداروں نے دوبارہ کاروبار بند کر دیا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی نفری بھی طلب کی گئی ہے جنہیں متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل پیر کو ہی راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ راولپنڈی کے واقعے میں دس افراد ہلاک اور 56 زخمی ہوئے جن میں دو کی حالت نازک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آتش زدگی کا شکار ہونے والی مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا جبکہ جلنے والی دکانوں کے نقصان کا تخمینہ لگانے کے بعد دکانداروں کو زرِ تلافی دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ جونیئر اور سینیئر اہلکاروں سے تحقیقات کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ کی معائنہ ٹیم کے سربراہ نجم سعید کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے اور فرائض میں کوتاہی برتنے والوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی اڑتالیس گھنٹوں میں حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

جمعہ کو راولپنڈی میں ایک ماتمی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد حالات کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے فوج طلب کر لی گئی تھی۔

Image caption تین ہلاک شدگان کی نمازِ جنازہ پیر کی شام لیاقت باغ میں ادا کی گئی

اس سے قبل اتوار کی شام حکام اور علما کے درمیان مذاکرات کے بعد فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والے تین افراد کی نمازِ جنازہ لیاقت باغ میں ادا کی گئی جس میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد شریک ہوئی۔

جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں تنظیم اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی اور وفاق المدارس العربیہ کے رہنما قاری حنیف جالندھری کے علاوہ دوسرے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

اسی بارے میں