’فرقہ وارانہ کشیدگی میں بعض سرکاری اہلکاروں کا کردار مشکوک‘

Image caption کئی عینی شاہدین کا الزام ہے کہ تشدد کے آغاز پر پولسی خاموش تماشائی بنی رہی

راولپنڈی میں دس محرم کی شام شیعہ اور سنی مسالک سے تعلق رکھنے والے دو گرہوں میں تصادم کے واقعے کی تحقیقات ابھی شروع نہیں ہوئیں لیکن بعض انٹیلی جنس ادارے اس واقعے میں سرکاری اداروں کے بعض اہلکاروں کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہے۔

ایک سینیئر سیکیورٹی اہلکار کے مطابق اس سانحے کی مجوزہ تحقیقات میں اس پہلو کا بھی بغور جائزہ لیا جائےگا کہ اس روز شرپسندی اور تشدد میں ملوث افراد کو خاص طور پر پولیس اہلکاروں کی مدد تو حاصل نہیں تھی۔

بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بارے میں راولپنڈی کی اعلیٰ انتظامی اہکار اور سیاسی قیادت، جن میں وزیراعلیٰ اور بعض وزرا بھی شامل ہیں، شدید تشویش کا شکار ہیں کہ اس واقعے میں بعض پولیس اہلکار بھی ملوث ہو سکتے ہیں جو سرکاری فرائض کی ادائیگی کے بجائے اپنے مسلکی مفادات کے تحت تشدد کو بڑھاوا دیتے رہے۔

پاکستان میں فرقہ واریت کا زہر سرکاری اور ریاستی اداروں میں سرایت کر جانے کے خدشات طویل عرصہ سے ظاہر کیے جا رہے ہیں لیکن یہ غالباً پہلا موقع ہے کہ بڑے پیمانے پر ہونے والے فرقہ وارانہ جھگڑے میں اس ریاستی مشینری کے بعض پرزوں کے ملوث ہونے کے بعض شواہد سامنے آئے ہیں۔

ایک سینیئر سیکیورٹی اہلکار کے مطابق عین جمعے کی نماز کے وقت شیعہ جلوس کا ایک خاص مسجد کے سامنے سے گزرنا، فائرنگ میں سرکاری اسلحے کا استعمال، آتش زنی کے لیے وافر مقدار میں پٹرول کی دستیابی، فائر برگیڈ اور مزید نفری کے آمد کے ممکنہ راستوں کی بندش، اور نذر آتش ہونے والی مدینہ مارکیٹ کا گیٹ کھول دینا، ایسے واقعات ہیں جن سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔

جمعے کے روز راولپنڈی کے جس مقام پر تشدد کا واقعہ پیش آیا وہ روایتی طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی کے لحاظ سے فلیش پوائنٹ مانا جاتا ہے۔

یہاں قائم مسجد سنی شدت پسند گروپ اہل سنت و الجماعت کا مرکز ہے اور ہر سال محرم کے موقع پر اس مسجد کے گرد خصوصی حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں۔

اس بار فرق یہ تھا کہ جمعہ کا دن تھا اور مسجد میں نماز جمعہ کی تیاری کی جا رہی تھی۔

مقامی انتظامیہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھی کہ جمعے کی مناسبت سے یہ جلوس ایسے وقت میں اس مسجد کے قریب سے گزرنا چاہیے جب نماز جمعہ کی ادائیگی میں رخنہ نہ پڑے۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔۔۔ مزید یہ کہ جلوس کے قریب پہنچنے کے باوجود پولیس اہلکاروں نے ’ایس او پی‘ یعنی روایتی حفاظتی انتظامات کے پیش نظر مسجد کا لاؤڈ سپیکر بھی بند نہیں کراویا۔ یہ لاؤڈ اسپیکر ہی بعد میں پیش آنے والے پر تشدد واقعات کا محرک بنا۔

راولپنڈی کے اسی حلقے سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد کے مطابق یہ پہلی بار نہیں تھا کہ عاشورہ محرم کا جلوس اس مقام سے جمعے کے روز گزرا ہو۔

’میری زندگی میں عاشورہ کئی بار جمعے کے روز آیا ہے۔ اس علاقے کے بچوں کو بھی پتہ ہے کہ جمعے کے روز جب یہ جلوس اس مقام سے گزرتا ہے تو کس طرح کے احتیاطی اقدامات کرنے چاہییں۔ میں مان نہیں سکتا کہ پولیس نے اس صورتحال کا ادراک نہ کیا ہو۔‘

بعض سرکاری اہلکار اس بات پر بھی حیران ہیں کہ تشدد شروع ہونے کے بعد نذر آتش ہونے والی مدینہ مارکیٹ کے داخلی راستے کو بعض پولیس اہلکاروں نے کیوں کھولا؟

راولپنڈی پولیس کے بعض اہلکاروں نے جان بچانے کے لیے اسی مسجد میں ’پناہ‘ کیوں لی جو حملے کی سب سے زیادہ زد میں تھی؟

شر پسندوں کے ہاتھوں اپنی بندوقیں کھونے والے پانچ اہلکار تو موقعے سے فرار ہو گئے، لیکن وہ اہلکار کہاں گئے جن کے پاس آنسو گیس کے گولوں کا ذخیرہ تھا؟ تشدد شروع ہونے کے ابتدائی ایک گھنٹے میں پولیس کی مداخلت نظر کیوں نہیں آئی؟

یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب عدالتی تحقیقات میں تلاش کیے جا سکتے ہیں لیکن فرقہ واریت پاکستانی ریاستی اداروں میں کس حد تک جڑیں پکڑ چکی ہے، اس سوال کا جواب تلاش کرنے اور اسے تسلیم کرنے میں شاید ابھی بہت وقت درکار ہے۔

اسی بارے میں