مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے لیے وکیلِ استغاثہ کا تقرر

Image caption سپریم کورٹ پہلے ہی سابق فوجی صدر کے تین نومبر سنہ 2007 کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے

پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کے سلسلے میں وفاقی حکومت نے ذوالفقار عباس نقوی ایڈوکیٹ کو سپیشل پراسکیوٹر مقرر کر دیا ہے۔

ادھر سندھ ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کی درخواست کی سماعت 22 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

مشرف نواز شریف کی اولین ٹینشن

پرویز مشرف کی چپ۔۔۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق وفاقی وزارتِ قانون نے پیر کو ذوالفقار نقوی کی بطور سرکاری وکیلِ استغاثہ تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں سابق فوجی صدر کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس سلسلے میں اٹارنی جنرل پیر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو حکومت کا ایک خط پہنچائیں گے جس میں اس کارروائی کے لیے تین رکنی کمیشن بنانے کی درخواست ہوگی۔

ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم کی تحقیقاتی رپورٹ بھی اس خط کے ساتھ منسلک ہوگی۔

یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب کسی سابق فوجی سربراہ کے خلاف جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے اور آئین کو معطل کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف ’ہائی ٹریزن ایکٹ‘ کے تحت مقدمہ چلے گا جس میں استغاثہ وفاقی حکومت دائر کرے گی اور اس ایکٹ کے تحت عدالت قائم کی جائے گی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ وزراتِ دفاع نے تین نومبر 2007 کے اقدامات کے حوالے سے ایف آئی اے کی ٹیم کو ریکارڈ فراہم نہیں کیا تھا اسی لیے راولپنڈی سمیت اس وقت کے کور کمانڈرز تک اس ٹیم کی رسائی کے حوالے سے بھی سوال پیدا ہوتے ہیں تاہم سپریم کورٹ میں آج پیش کی جانے والی رپورٹ میں ان سوالات کی وضاحت ہو جائے گی۔

وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق 26 جون کو تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی نے 16 نومبر کو اپنی رپورٹ حکومتِ پاکستان کو بھیجی ہے۔

Image caption تین نومبر 2007 کو بطور فوجی صدر پرویز مشرف نے آئین معطل کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی

ان کے مطابق رپورٹ پر غور و فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلائے گی۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے یہ بھی کہا تھا کہ اب چیف جسٹس سپریم کورٹ نے نشاندہی کرنی ہے کہ کون سی ایسی تین ہائی کورٹس ہیں جہاں سے اس کمیشن کے لیے ارکان لیے جا سکتے ہیں اور پھر حکومت متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رابطہ کرے گی تاکہ کمیشن کے ججوں کی نشاندہی کی جائے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ سابق فوجی صدر کے تین نومبر 2007 کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور عدالت کا کہنا ہے کہ اُن کے اقدامات آئین سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق مشرف کے خلاف آئین توڑنے کے مقدمے میں سزا ہونے کی صورت میں وہ پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکیں گے۔ پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمر قید ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق یہ عدالت کی صوبداید ہے کہ وہ کیا سزا تجویز کرتی ہے۔

خیال رہے کہ تین نومبر 2007 کو بطور فوجی صدر پرویز مشرف نے آئین معطل کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی جس کے بعد ملک کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 60 ججوں کو نظر بند کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں