’جنرل مشرف کا بڑا جرم 1999 کی فوجی بغاوت ہی تھی‘

Image caption ’اُس وقت کی سپریم کورٹ نے اس بغاوت کی توثیق کردی تھی‘

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کے نتیجے میں معزول ہونے والے اُس وقت کے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی نے کہا ہے کہ جنرل مشرف کا بڑا جرم 1999 کی فوجی بغاوت ہی تھی اور نومبر 2007 میں لگائی گئی ایمرجنسی تو محض اُس بغاوت کا شاخسانہ تھا۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے سعید الزمان صدیقی نے کہا کہ اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت کے جرم میں جنرل مشرف پر مقدمہ نہ چلانے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اُس وقت کی سپریم کورٹ نے اس بغاوت کی توثیق کردی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بعد میں پارلیمینٹ نے بھی عدلیہ کی پیروی کرتے ہوئے سترھویں ترمیم منظور کرکے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کو آئینی تحفظ فراہم کردیا تھا۔

’تو غالباً یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ وہ اُس کیس کو ری اوپن نہیں کرنا چاہ رہے کیونکہ اس سے خاصی پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ اُس میں اُن ججز اور پارلیمینٹیرینز کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے جو اس معاملے میں کسی حد تک ملوث تھے۔‘

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل مشرف نے اپنے پہلے پی سی او کے تحت دوسرے ججوں کے ساتھ ساتھ اُنہیں بھی حلف اٹھانے کی پیشکش کی تھی مگر ایک خاص وجہ سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔

’ہمیں تو انہوں نے پچیس جنوری کو وزیر اعظم ہاؤس میں بلوایا تھا۔ انہوں نے مجھے یہ کہا کہ ہم کل پی سی او لا رہے ہیں تو آپ اس کے تحت حلف لیں۔ میں نے انہیں یاد دلایا کہ چودہ اکتوبر 1999 کو مارشل لاء لگانے کے بعد جب وہ میرے گھر تشریف لائے تھے تو اُس وقت انہوں نے دو وعدے مجھ سے کیے تھے۔‘

’پہلا وعدہ یہ تھا کہ وہ کسی صورت کوئی پی سی او نہیں لائیں گے اور دوسرا یہ کہ وہ عدالت سے کوئی ایسا اختیار نہیں مانگیں گے جس سے وہ آئین میں ترمیم کرسکیں۔ اس وجہ سے میں نے اُن سے کہا کہ چونکہ آپ اپنے وعدے سے پھر گئے ہیں اس لیے میں حلف نہیں لے سکتا۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے پہلے پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں میں نہ صرف سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری شامل تھے بلکہ پورے ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے 87 ججز تھے جنہوں نے حلف اٹھایا۔

سپریم کورٹ کے جن چھ ججوں نے حلف نہیں اٹھایا تھا ان میں پانچ ججوں کا تعلق سندھ اور ایک کا پنجاب سے تھا۔

سعید الزمان صدیقی نے کہا کہ نومبر 2007 کی ایمرجنسی کی عدلیہ اور پارلیمینٹ دونوں نے ہی توثیق نہیں کی اور جنرل مشرف کے اُس اقدام کو اب تک آئینی تحفظ نہیں مل سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے شاید حکومت نے اسی معاملے میں ان پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور آئین کے تحت اس جرم میں عمر قید یا موت کی سزا یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔

آئین کی سترھویں ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جنرل مشرف کے اس اقدام کو جائز قرار دینا نہ تو عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا تھا نہ پارلیمینٹ کے دائرہ اختیار میں۔ لیکن چونکہ ایک پارلیمانی نظریہ ہے کہ پارلیمینٹ بالادست ہے تو اس لیے پارلیمینٹ جو فیصلے کرتی ہے اس کی پابندی عدلیہ سمیت سب پر لازم ہے۔‘

اسی بارے میں