’راولپنڈی کا بدلہ‘: یونیورسٹی پروفیسر قتل

Image caption پولیس کے مطابق پروفیسر کے ڈرائیور کو بھی گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات میں یونیورسٹی کے پروفیسر اور ان کے ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

مقامی پولیس نے ہمارے نامہ نگار علی سلمان کو بتایا کہ پروفیسر شبیر شاہ ضلح گجرات کے مضافات میں گھر سے یونیورسٹی جا رہے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی روک کر انھیں گاڑی سے اتارا اور ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر گولی چلا دی۔

راولپنڈی میں کرفیو، دیگر شہروں میں کشیدگی

راولپنڈی میں فسادات اور دکانیں نذر آتش: تصاویر

پولیس کے مطابق پروفیسر کے ڈرائیور کو بھی گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

پولیس نے کہا کہ پروفیسر شبیر شاہ یونیورسٹی آف گجرات میں سٹوڈنٹس افیئرز کے ڈائریکٹر تھے اور ان کا تعلق اہلِ تشیع مسلک سے تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان جائے وقوعہ پر ایک رقعہ پھینک گئے ہیں جس میں لکھا تھا کہ یہ کارروائی راولپنڈی کے واقعے کی جوابی کارروائی تھی اور وہ اس طرح کی مزید کارروائیاں کریں گے۔

انھوں نے بتایا کہ پروفیسر یونیورسٹی میں مقبول تھے اور مختلف حلقوں میں دانشور کے طور جانے جاتے تھے۔

یاد رہے کہ راولپنڈی میں یوم عاشورہ کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تصادم کے نتیجے میں دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

پروفیسر شیبر شاہ کے قتل کے ردِ عمل میں گجرات یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے جلال پور جٹاں روڈ بلا ک کر دیا۔ احتجاجی طلبہ کا کہنا تھا کہ پروفیسر شبیر شاہ اچھے استاد تھے جنھوں نے کبھی بھی فرقہ واریت کی بنیاد پر کوئی بات نہیں کی۔

گذشتہ جمعے کو راولپنڈی میں تشدد کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ حکام کو راولپنڈی سمیت کوہاٹ اور ہنگو میں کرفیو نافذ کرنا پڑا جبکہ ملتان میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

راولپنڈی پولیس کے مطابق پیر کی صبح کرفیو اٹھائے جانے کے بعد شہر میں جمعے کو ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا تھا۔

راجہ بازار اور کالج روڈ کے علاقے میں سینکڑوں مظاہرین نے متاثرہ مدرسے کے باہر اور راجہ بازار کے علاقے میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پیر کو ایک جلوس پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک عام شہری ہلاک اور متعدد لوگ زخمی ہو گئے۔ حکام نے کشیدگی کے پیشِ نظر کوہاٹ میں فوج طلب کر کے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

حکام نے سکیورٹی کے پیشِ نظر کوہاٹ سے متصل ضلع ہنگو میں چندگھنٹے کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا لیکن پھر اسے ہٹا لیا گیا۔

اسی بارے میں