’غداری‘ کا مقدمہ، خصوصی عدالت کی تشکیل

Image caption سپریم کورٹ سابق فوجی صدر کے تین نومبر 2007 کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے

حکومتِ پاکستان نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے تین رکنی خصوصی عدالت تشکیل دے دی ہے۔

منگل کی شام وزیراعظم پاکستان آفس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تین رکنی عدالت کی سربراہی سندھ ہائی کورٹ سے جسٹس فیصل عرب کریں گے جبکہ دیگر دو ارکان میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس یاور علی اور بلوچستان ہائی کورٹ کی جسٹس طاہرہ صفدر شامل ہیں۔

بیان کے مطابق یہ خصوصی عدالت مقدمے کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں کرے گی۔

اس سے قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو ہی سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے لیے پانچ ججوں کے نام حکومت کو بھیجے تھے۔

’جنرل مشرف کا اصل جرم 1999 کی بغاوت تھی‘

مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے لیے استغاثہ کا تقرر

جن ججوں کے نام بھجوائے گئے تھے ان میں لاہور ہائی کورٹ سے جسٹس یاور علی، سندھ ہائی کورٹ سے جسٹس فیصل عرب، پشاور ہائی کورٹ سے جسٹس یحییٰ آفریدی، بلوچستان ہائی کورٹ سے جسٹس طاہرہ صفدر اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے جسٹس نور الحق قریشی شامل تھے۔

سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ ان پانچ ججوں میں سے خود ہی تین ناموں کا انتخاب کرے اور ان میں سے سینیئر ترین جج کو کورٹ کا سربراہ مقرر کیا جائے۔

پاکستان کی وفاقی وزارت قانون نے پیر کو پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑے پر غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا اور کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ اس مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت کے قیام کے سلسلے میں تین ججوں کی نامزدگی کرے۔

خط میں کہا گیا تھا کہ چونکہ اس وقت ملک میں پانچ ہائی کورٹس ہیں جن میں سے حکومت کو تین ججوں کی نامزدگی میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے ملک کی تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹسوں کو 19 نومبر تک اس عدالت کے لیے ججوں کے نام بھجوانے کے لیے کہا تھا۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اگرچہ حکومت نے عدالت کی تشکیل کے لیے سپریم کورٹ سے کہا تھا تاہم عدالتِ عظمیٰ نے اب گیند دوبارہ حکومت کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی بینچ کی تشکیل کے بعد یہ بینچ اسلام آباد ہی میں اس مقدمے کی سماعت کرے گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق خصوصی بینچ کی تشکیل کے بعد سیکریٹری داخلہ اس بینچ کے سامنے شکایت کنندہ کے طور پر پیش ہوں گے جس کے بعد عدالت سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کے مقدمے میں عدالتی کارروائی کا آغاز کر دے گی۔

Image caption سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان پانچ ججوں میں سے خود ہی تین ناموں کا انتخاب کرے

وفاقی حکومت نے ذوالفقار عباس نقوی ایڈوکیٹ کو اس مقدمے کے لیے سپیشل پراسکیوٹر مقرر کیا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ سابق فوجی صدر کے تین نومبر 2007 کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور عدالت کا کہنا ہے کہ اُن کے اقدامات آئین سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق مشرف کے خلاف آئین توڑنے کے مقدمے میں سزا ہونے کی صورت میں وہ پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکیں گے۔ پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمر قید ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق یہ عدالت کی صوبداید ہے کہ وہ کیا سزا تجویز کرتی ہے۔

خیال رہے کہ تین نومبر 2007 کو بطور فوجی صدر پرویز مشرف نے آئین معطل کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی جس کے بعد ملک کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 60 ججوں کو نظر بند کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں