پاؤں زخمی سہی ڈگمگاتے چلو

Image caption دس سالہ حیدر علی لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جاری مارچ میں اپنی دو بہنوں کے ساتھ شریک ہے

کراچی سے کوئٹہ جانے والی سڑک پر ایک بچہ ٹرالی لیے چلا جا رہا ہے، اس ٹرالی میں پانی کی بوتلیں، کلر سپرے، تصاویر اور ایک سپیکر موجود ہے جبکہ آٹھ خواتین سمیت دو درجن کے قریب افراد اس کے پیچھے آ رہے ہیں۔

تپتی سڑک، بدلتے موسم کی ہوائیں اور ساڑھے سات سو کلو میٹر کا طویل پیدل سفر۔ کون ماں خوشی سے دس سال کے بیٹے کو اس سفر پر روانہ کرسکتی ہے؟ لیکن حیدر علی نے اس سفر اور اس ٹرالی کو اپنی ذمےداری سمجھ کر قبول کیا۔

ٹرالی کا بوجھ حیدر کے وزن سے کہیں زیادہ ہے، اسی طرح اس کے خیالات بھی عمر کے لحاظ سے کہیں بھاری ہیں۔ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جاری مارچ میں اپنی دو بہنوں کے ساتھ شریک ہے۔

حیدر کے والد رمضان بلوچ کو جب اٹھایا گیا تو وہ ان کے ساتھ موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ والدہ نے انھیں کہا تھا کہ ماما قدیر کے ساتھ جاؤ اس کے والد جلد رہا ہوجائیں گے۔

’پاؤں زخمی سہی ڈگمگاتے چلو، اپنی زنجیر کو جگمگاتے چلو۔‘

سندھ کے نامور شاعر شیخ ایاز کی سطور جیسے اس لانگ مارچ کے روح رواں ستر سالہ قدیر بلوچ کے لیے کہی گئی ہوں۔ ان کا ایک پاؤں زخمی ہونے کے بعد سوج چکا ہے ۔گڈانی کے قریب میں نے انھیں کہا کہ اس کی پٹی تبدیل کر لیں تو انھوں نے جواب دیا کہ دیر ہو جائے گی رات کو گڈانی پہنچ کر تبدیل کریں گے۔

قدیر بلوچ کے بیٹے عبدالجیل ریکی لاپتہ ہوئے۔ بعد میں ان کی مسخ شدہ لاش ملی، لیکن یہ حادثہ ان کی جدوجہد کو روک نہیں سکا۔ قدیر بلوچ کے مطابق انھوں نے یہ غم دیکھا اور برداشت کیا تھا اس لیے انھوں نے عزم کیا کہ جو بھی لاپتہ نوجوان ہیں وہ سب ان کے بیٹے ہیں وہ ان کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیں گے۔

وندر کے قریب ایک کار قدیر بلوچ کے انتہائی قریب سے گزری اور آگے جا کر دوبارہ واپس آئی۔ مارچ میں شریک نوجوانوں کا خیال ہے کہ یہ قدیر بلوچ پر حملے کی کوشش تھی۔ اس سے پولیس کو آگاہ کیا گیا جس کے بعد انھیں چار پولیس اہلکار اور ایک موبائل فراہم کی گئی۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اس پیدل لانگ مارچ کا آغاز 27 اکتوبر کو کوئٹہ سے کیا گیا تھا۔ پہاڑوں اور میدانی علاقوں کا سفر طے کرکے مارچ کے شرکا اب کراچی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ راستے میں خاموش دیواروں اور پہاڑوں پر رنگین سپرے کی مدد سے اپنا پیغام تحریر کرتے چلے جا رہے ہیں۔

وندر کے قریب کوسٹ گارڈ کے مقامی دفتر کی دیواروں پر بھی انھوں نے یہ مطالبے تحریر کرنا چاہے لیکن انھیں روک دیا گیا۔

مارچ میں شریک لڑکیوں نے عام گھریلو لباس اور ربڑ کی معمولی چپلیں پہن رکھی ہیں۔ خصدار سے لاپتہ ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی سمی بلوچ بھی ان میں شامل ہیں، جن کا کہنا ہے وہ یہ سوچ کر مارچ کا حصہ بنی ہیں کہ کوئی تو ان کے درد کو محسوس کرے گا:

’صبح آٹھ بجے سے رات نو بجے تک سفر کرتے رہے، ہمارے پاؤں پر چھالے نکل آئے، ٹانگیں دکھتی ہیں، ہم نے گرمی برداشت کی، اس سفر میں ہمیں کسی چیز کی کوئی پروا نہیں کی۔‘

Image caption یہ لانگ مارچ جمعرات کی شام کو حب سے کراچی میں داخل ہوگا

پنجاب اور سندھ کے برعکس بلوچستان کی مرکزی شاہراہ آر سی ڈی پر چھوٹے قصبے اور دیہات ہیں۔ ابتدائی دنوں میں مارچ کے شرکا راستے میں ہی کھانا پکاتے تھے لیکن بعد میں دوپہر اور رات کو لوگ اپنے گھروں سے ان کے لیے کھانا بنا کر لا رہے ہیں۔ اس عمل میں لاپتہ اور ہلاک شدہ افراد کے لواحقین آگے آگے رہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ وندر سمیت دیگر علاقوں میں بعد میں پولیس اور دیگر ادارے انھیں تنگ کرتے رہے ہیں۔

محدود افراد پر مشتمل یہ قافلہ ریاستی اداروں کے خوف کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ مارچ کی حمایت تو بلوچستان کی تمام جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کی ہے لیکن عملی طور پر وہ شریک نہیں۔ کہیں کہیں چند نوجوان اس مارچ میں شریک ہوکر یک جہتی کا اظہار کرتے رہے۔

مارچ میں شریک فرزانہ مجید کی زندگی کا تکلیف دہ سفر تو چار سال پہلے ہی اسی وقت شروع ہوگیا تھا جب ان کے بھائی ذاکر مجید کو اٹھایا گیا۔ ان کی جدوجہد نے انھیں ان کئی لڑکیوں کے لیے ماڈل بنادیا جن کے بھائی یا والد لاپتہ ہیں۔

’ذاکر مجید یا دیگر نوجوانوں نے اگر ریاست کے خلاف پروپگینڈا کیا ہے تو انھیں عدالت میں پیش کریں۔ اگر یہ قبول نہیں تو جنیوا کنوینشن اور انسانی حقوق کا عالمی چارٹر موجود ہے ان کی پیروی کریں، یہ تو نہیں کسی کو لاپتہ کر دیں، اس پر جسمانی اور خاندان پر ذہنی تشدد کرتے رہیں۔‘

مارچ میں شریک نوجوان اپنے چہرے ڈھانپ کر چلتے ہیں تاکہ ان کی شناخت نہ ہوسکے کیونکہ ماضی میں احتجاج میں شریک نوجوان لاپتہ ہوتے رہے ہیں۔ ان میں سے ہی ایک نوجوان وائر لیس ساونڈ سسٹم کے ذریعے نعرے لگاتا رہا، جس کا سپیکر حیدر علی کی ٹرالی پر موجود تھا۔

یہ لانگ مارچ جمعرات کی شام کو حب سے کراچی میں داخل ہوگا، جہاں یوسف گوٹھ میں ایک روز قیام کے بعد کراچی پریس کلب تک مارچ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں