مشرف کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں: اٹارنی جنرل

Image caption اس کیس کے فیصلے میں زیادہ وقت درکار نہیں کیونکہ اس مقدمے میں زیادہ تر شہادتیں پہلے ہی ریکارڈ پر ہیں: منیر اے ملک

پاکستان کے اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں حکومت کے پاس اتنے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اُنہیں اس مقدمے میں سزا ہوسکتی ہے۔

سپریم کورٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں اُمید ہے کہ اس کیس کے فیصلے میں زیادہ وقت درکار نہیں کیونکہ اس مقدمے میں زیادہ تر شہادتیں پہلے ہی ریکارڈ پر ہیں۔

قانون کے مطابق غداری کے مقدمے میں مجرم ثابت ہونے کی صورت میں موت یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے تشکیل پانے والی خصوصی عدالت کے سامنے درخواست دائر ہونے کے بعد پرویز مشرف کو گرفتار کیا جاسکتا ہے اور سیکرٹری داخلہ اس ضمن میں خصوصی عدالت کے سامنے درخواست دائر کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ گرفتاری پر عمل درآمد وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کا کام ہے۔

Image caption اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف اس خصوصی عدالت میں ضمانت کی درخواست بھی دائر کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمے کی سماعت کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے جج فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت قائم کی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف اس خصوصی عدالت میں ضمانت کی درخواست بھی دائر کرسکتے ہیں۔

سابق فوجی صدر کے خلاف درج ہونے والے چاروں مقدمات میں ضمانتیں ہو چکی ہیں، البتہ ان کا نام اب بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے جس کے خلاف پرویز مشرف کے وکلا نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت 22 نومبر کو ہوگی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عدالت عالیہ نے پرویز مشرف کی درخواست منظور کر لی اور وہ بیرون ملک چلے گئے تو پھر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی کارروائی محض ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔

پرویز مشرف ان دنوں اسلام آباد میں اپنے فارم ہاؤس میں ہیں اور اُن کی حفاظت کے لیے تعینات کی جانے والی سیکورٹی میں معمولی کمی کی گئی ہے۔

اسی بارے میں