ملٹری انٹیلیجنس کے افسر کی اصل شناخت سامنے آگئی

Image caption انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں متعدد بار حکومت پاکستان پر لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دے چکی ہیں

سپریم کورٹ کے دباؤ اور پولیس کے ایک افسر کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کے لاپتہ افراد کے معاملے میں پہلی بار ملٹری انٹیلی جنس کے ایک افسر کی اصل شناخت سامنے آئی ہے اور اس افسر کو ایک شہری کے اغوا کے الزام میں مقدمے کا سامنا ہے۔

سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران پیش کی گئی دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ میجر حیدر کے کوڈ نام سے مشہور ملٹری انٹیلی جنس کا افسر در اصل میجر محمد علی احسن ہے جو ان دنوں بلوچستان کے ضلع آواران میں تعینات ہے۔

ملٹری انٹیلی جنس سے مبینہ تعلق رکھنے والے میجر حیدر پر تاسیف علی کے اغوا کا الزام ہے۔ تاہم گزشتہ ایک برس سے وزارت دفاع، فوجی صدر دفاتر اور ملٹری انٹیلی جنس کے حکام تحریری طور پر عدالت کو آگاہ کر چکے ہیں کہ اس نام کا کوئی افسر ملٹری انٹیلی جنس میں خدمات انجام نہیں دے رہا۔

ایک پولیس افسر کی ایک سال پر محیط انتھک کوششوں کے بعد بلآخر اس میجر حیدر کا بھانڈہ گزشتہ روز عدالت عظمیٰ میں اس وقت پھوٹا جب پولیس کے تفتیشی افسر نے دستاویزات، ہوائی جہاز کے ریکارڈ اور موبائل فون نمبر کے ذریعے ثابت کر دیا کہ میجر محمد احسن علی ہی دراصل میجر حیدر ہیں۔

کسی جاسوسی ناول کا پلاٹ لگنے والی یہ کہانی ٹھیک ایک برس قبل راولپنڈی سے شروع ہوئی جب ڈاکٹر عابدہ ملک نے صادق آباد پولیس کو بتایا کہ ان کے شوہر تاسیف علی دو روز سےگھر نہیں لوٹے۔

ڈاکٹر عابدہ ملک نے بتایا کہ گھر سے غائب ہونے سے قبل ان کے شوہر کی ٹیلی فون پر کسی سے تلخ کلامی ہوئی تھی اور پوچھنے پر تاسیف علی نے بتایا تھا کہ وہ ملٹری انٹیلی جنس کے میجر حیدر سے بات کر رہے تھے جو انہیں دھمکا رہے تھے۔

Image caption پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتے دار ان کی بازیابی کے لیے پیدل لانگ مارچ کر رہے ہیں

یہ معاملہ لاپتہ افراد کے مقدمے کے طور پر سپریم کورٹ پہنچا اور سپریم کورٹ کی ہدایت پر پولیس کے ایک تفتیشی افسر نے اس کی تحقیق شروع کی۔

میرپور سے تعلق رکھنے والے تاسیف علی کے دوستوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ حزب المجاہدین کے سابق کمانڈر تھے لیکن اب تائب ہو کر میرپور میں فرنیچر کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کے ایک دوست کے مطابق میرپور ہی میں تعینات ملٹری انٹیلی جنس کے میجر حیدر بھارتی سرحد کے قریب ایک دکان کھولنے پر اصرار کر رہے تھے جبکہ تاسیف علی اس میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔

پولیس نے متعدد بار ملٹری انٹیلی جنس کے دفتر کا دورہ کیا اور سپریم کورٹ نے وزارت دفاع کے ذریعے یہاں تعینات میجر حیدر کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس نام کا کوئی افسر ملٹری انٹیلی جنس میں کام نہیں کرتا۔

پولیس نے تاسیف علی اور میجر حیدر کے فون ریکارڈ حاصل کیے جس سے پتہ چلا کہ میجر حیدر کے زیر استعمال فون دس مئی کو دوپہر بارہ بجے راولپنڈی اور چار بجے کراچی میں استعمال ہوا۔

پولیس ٹیم اسی روز ہوائی اڈے پہنچی اور اس دوران کراچی جانے والی فلائٹ میں مسافروں کی فہرست سے پتہ چلا کہ مذکورہ فون محمد علی احسن نامی شخص کے زیراستعمال ہے۔

اسی دوران پولیس کو کسی نامعلوم شخص کی جانب سے ایک لفافہ موصول ہوا جس میں کیپٹن محمد علی احسن کا وزٹنگ کارڈ موجود تھا۔

Image caption پاکستان کے لاپتہ افراد کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے

سپریم کورٹ کے استفسار پر وزارت دفاع نے تسلیم کیا کہ اس نام کا ایک افسر فوج میں موجود ہے اور اس کے سروس ریکارڈ سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہ افسر تاسیف علی کے اغوا کے وقت میرپور میں ملٹری انٹیلی جنس کے دفتر میں تعینات تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر وزارت دفاع نے اس افسر کو تاسیف علی کے اغوا کے مقدمے میں شامل تفتیش کرنے کی یقین دہانی بھی کروا دی ہے۔

میجر محمد علی احسن آواران میں تعینات ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ بدھ کو اس فوجی افسر کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔

میجر محمد علی احسن تاسیف علی کے اغوا میں ملوث ہیں یا نہیں، یہ بات تو پولیس تفتیش میں ہی سامنے آئے گی، تاہم عدالت عظمیٰ کی حد تک یہ مقدمہ ابھی بند نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں