امریکہ طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملہ نہیں کرے گا: سرتاج

Image caption وزیراعظم نواز شریف کی طالبان سے بات چیت کے آغاز کی تصدیق کے چند روز بعد ہی طالبان کے امیر ڈرون حملے میں مارے گئے

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کے مطابق امریکہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہیں کیے جائیں گے۔

مشیر خارجہ کے مطابق ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے مذاکرات کا عمل متاثر ہوا ہے۔

’ڈرون حملے مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ‘

’اگر پاکستان چاہے تو ڈرون حملے کل بند ہو سکتے ہیں‘

پاکستان کے قبائلی ڈرون حملوں کے حامی

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز کے مطابق ’امریکہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہیں کیے جائیں گے۔‘

تاہم سرتاج عزیز کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امریکہ نے یہ یقین دہانی کب اور کہاں کی ہے۔

چند روز پہلے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ جب تک ڈرون حملے نہیں رکیں گے اُس وقت تک طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھےگا۔

امریکہ کی طرف سے کیے جانے والے حالیہ ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے پہلے گذشتہ ماہ وزیراعظم نواز شریف نے برطانیہ کے دورے کے موقع پر ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان سے امن مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ امید کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ یہ مذاکرات آئین کے دائرۂ کار کے اندر ہوں۔

تاہم اس بیان کے اگلے روز ہی کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے مذاکرات کے آغاز کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت محض میڈیا پر بیانات دے رہی ہے۔

مذاکرات شروع کرنے کی تصدیق اور تردید کے ایک روز بعد ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ڈرون حملے میں مارے گئے۔

Image caption پاکستان ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے جبکہ امریکہ انھیں شدت پسندی کے خلاف موثر ہتھیار قرار دیتا ہے

اس وقت وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کو طالبان سے بات چیت کے عمل پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ امریکی حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکیم اللہ محسود کو نشانہ نہ بنانے کی تجویز پر اتفاق نہیں کیا تھا۔

پاکستان ماضی میں بھی ڈرون حملوں پر امریکہ سے احتجاج کر چکا ہے اور حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر بھی اسلام آباد میں امریکی سفیر کو طلب کر کے حکیم اللہ محسود کو ہلاک کرنے والے ڈرون حملوں پر امریکہ سے احتجاج کیا تھا۔

ڈرون حملوں پر پاکستان کا موقف رہا ہے کہ یہ ملکی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی ہیں اور ان سے شدت پسندی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کا موقف ہے کہ ڈرون حملے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں موثر ہتھیار ہیں اور ان کا استعمال قانونی ہے۔

اسی بارے میں