’امریکہ کو جو مطلوب نہیں انھیں ڈرون میں نشانہ نہیں بنایا جائے گا‘

Image caption پاکستان ڈرون حملوں کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے جبکہ امریکہ حملوں کا دفاع کرتا ہے

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین حاجی عدیل کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز کے مطابق امریکہ نے یہ تاثر دیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات شروع ہونے کی صورت میں ان افراد کو ڈرون حملوں میں نشانہ نہیں بنایا جائےگا جو امریکہ کے دشمن نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ امریکہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہیں کیے جائیں گے۔

’ڈرون حملے مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں‘

مشیر خارجہ کے مطابق ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے مذاکرات کا عمل متاثر ہوا ہے۔

حاجی عدیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے اجلاس میں مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز نے بتایا ہے کہ ’وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران صدر اوباما سے ملاقات میں انھیں یہ تاثر ملا کہ اگر پاکستان کسی سے گفتگو شروع کرتا ہے تو ڈرون حملہ نہیں کیا جائے گا۔‘

حاجی عدیل کے مطابق ’لیکن امریکہ نے یہ بھی کہا کہ مطلوب افراد، القاعدہ، طالبان کے لوگ جو ہمارے دشمن ہیں اور جن کے سروں کی قمیت مقرر کی گئی ہے ان کو نہیں چھوڑیں گے۔‘

حاجی عدیل کے مطابق ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے ڈرون حملے روکنے کی کوئی واضح یقین دہانی نہیں ملی ہے کیونکہ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو اس کا اعلان کسی مشترکہ اعلامیے میں کیا جاتا یا وزیراعظم نواز شریف کی صدر اوباما سے ملاقات کے بعد اس کا اعلان لازمی کیا جاتا۔‘

انھوں نے کہا: ’امریکہ نے ڈرون حملے روکنے کو تو نہیں کہا لیکن امریکہ کسی ایسے شخص کو نقصان نہیں پہنچائے گا جو اسے مطلوب نہیں ہے۔‘

حاجی عدیل نے طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں کہا: ’ابھی تو اس کا دور دور تک کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ہے کیونکہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد طالبان کی قیادت تبدیل ہو چکی ہے اور اس نے مذاکرات سے بالکل انکار کر دیا ہے بلکہ بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔‘

اس سے پہلے کمیٹی کے اجلاس میں خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کے مطابق امریکہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہیں کیے جائیں گے۔

مشیر خارجہ کے مطابق ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے مذاکرات کا عمل متاثر ہوا ہے۔

امریکہ کی طرف سے کیے جانے والے حالیہ ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

گذشتہ ماہ وزیراعظم نواز شریف نے برطانیہ کے دورے کے موقعے پر ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان سے امن مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ امید کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ یہ مذاکرات آئین کے دائرۂ کار کے اندر ہوں۔

Image caption پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف متعدد بار سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی مظاہرے کر چکی ہیں

تاہم اس بیان کے اگلے روز ہی کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے مذاکرات کے آغاز کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت محض میڈیا پر بیانات دے رہی ہے۔

مذاکرات شروع کرنے کی تصدیق اور تردید کے ایک روز بعد ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ڈرون حملے میں مارے گئے۔اس وقت وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نےانکشاف کیا تھا کہ امریکی حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکیم اللہ محسود کو نشانہ نہ بنانے کی تجویز پر اتفاق نہیں کیا تھا۔

اسی بارے میں