شمالی وزیرستان خود کش دھماکے میں سات طالبان ہلاک

Image caption یہ خود کش دھماکہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میر علی میں ایک گاڑی میں ہوا

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق ایک خود کش دھماکے میں کم سے کم سات پاکستانی طالبان شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں طالبان کے ایک کمانڈر قاری سیف الدین بھی شامل ہیں۔

یہ خود کش دھماکہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میر علی میں منگل کو ایک گاڑی میں ہوا۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ اس خود کش دھماکے کے پیچھے کون ہے؟

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ پاکستانی طالبان اور دیگر شدت پسند گرہوں کے درمیان اختلافات کا نتیجہ ہے۔

واضح رہےکہ گزشتہ ماہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہو گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق واقعے میں طالبان کمانڈر قاری سیف الدین سمیت گاڑی میں سات شدت پسند سوار تھے۔

دھماکے کے بعد انھیں میر علی کے ایک ہسپتال لے جایا گیا جہاں انھیں مردہ قرار دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ قاری سیف الدین سنہ 2009 میں شمالی وزیرستان میں واقع رزمک کیڈٹ کالج کے 80 طلباء کے اغوا میں ملوث تھے۔

کیڈٹ کالج رزمک جون سنہ 2009 میں ا س وقت بند کر دیا گیا تھا جب ان علاقوں میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

کالج کے 70 سے زیادہ طالبعلموں کو اس وقت طالبان نے اغوا بھی کر لیا تھا جب وہ کالج بند ہونے کے بعد واپس گھروں کو جا رہے تھے لیکن دو روز بعد انھیں بازیاب کرا لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں