کوئٹہ: ایف سی کی گاڑی پر بم حملہ، 5 ہلاک

Image caption کوئٹہ میں گزشتہ کئی سالوں سے شدت پسندی کے واقعات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم دھماکے میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعرات کی صبح سرکی روڑ پر ایف سی کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا اور اس حملے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

نامہ نگار محمد کاظم نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں پولیس کا ایک اہلکار اور چار شہری شامل ہیں جبکہ 23 زخمیوں میں سے تین کا تعلق ایف سی سے ہے۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کوگھیرے میں لے لیا اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔

کوئٹہ میں چوبیس گھنٹوں کے دوران یہ چوتھا دھماکہ ہے۔ اس سے قبل بدھ کی رات کو سرکی روڑ اور موتی راہم روڑ پر یکے بعد دیگرے تین دھماکوں میں دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے تھے۔

بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے جاری تشدد کی لہر میں متعدد بار کوئٹہ شہر میں دھماکے ہو چکے ہیں۔ ان دھماکوں میں سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہریوں اور طالب علموں کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

ادھر خضدار کے علاقے نال میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں دو افراد کی لاشیں ملی ہیں جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افراد کو رواں ماہ کی انیس تاریخ کو اغوا کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ صوبے میں قوم پرست رہنما نوابزادہ بالاچ مری کی برسی کے موقع پر صوبے کے بلوچ علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی ہے اور اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں