’امریکہ سے معاہدے کے تحت نیٹو سپلائی روکی نہیں جا سکتی‘

Image caption تحریک انصاف نےں نیٹو سپلائی بند کرنے کے لیے تیئس نومبر کو دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے

خارجہ اور سیکورٹی امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ پاکستانی حکومت کے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکی صدر پاکستان میں پرامن حالات اور مستحکم جمہوریت کے خواہاں ہیں۔

خارجہ امور سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کی وجہ سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا ہے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ حکیم اللہ محسود ہائی ویلیو ٹارگٹ میں شامل تھا اس لیے اُن پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے اور اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ امریکہ نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں میں 70 فیصد سے زیادہ اہداف حاصل کیے ہیں۔

خارجہ امور کے مشیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ سرحدی معائدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اور حکومت نے اس ضمن میں غیر ملکی جارحیت اور مشاورت جیسے الفاظ کی وضاحت بھی مانگی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جارحیت کیسی ہوگی کون کرے گا اور کس سے مشاورت کی جائے گی اس کی وضاحت کی جائے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹیرجیک مذاکرات اگلے سال مارچ میں ہو رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان معائدے کے تحت امریکہ اور نیٹو افواج کے دفاعی سازوسامان کی واپسی کو نہیں روک سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کو نیٹو افواج کی سپلائی کے لیے جانے والے فی ٹرک کے ڈھائی سو ڈالر بھی نہیں مل رہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے راستے نیٹو کی سپلائی کے لیے فی ٹرک 1100 سے 1200 امریکی ڈالر لگانے کی تجویز دی گئی تھی جو قابل عمل نہیں ہے۔

سیکرٹری خارجہ جیل عباس جیلانی نے قائمہ کمیٹی کے ارکان کو وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں جلیل عباس جیلانی کی امریکہ میں تعیناتی کے فیصلے کی توثیق کی گئی۔

اسی بارے میں