شمالی وزیرستان اور صوابی میں سکیورٹی فورسز پر حملے، تین سکیورٹی اہلکار ہلاک

Image caption پولیس کے مطابق صوابی میں شدت پسندوں کے ایک حملے کی جوابی کارروائی میں چار شدت پسند ہلاک ہوئے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے علاقے شوا میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، اور ٹل میر علی روڈ کو آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

دریں اثنا صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کے حملے میں چار حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی نے صوابی کے ضلعی پولیس افسر کے حوالے سے بتایا کہ نتھیان پولیس چیک پوسٹ پر 12 شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا تاہم پولیس نے جوابی کارروائی کر کے انہیں پسپا کر دیا۔

صوابی میں کچھ عرصے سے شدت پسند حملوں کی زد میں ہے اور مقامی میڈیا کے مطابق چند روز قبل ہی پرمولو کے علاقے میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

منگل کو بھی شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق ایک خود کش دھماکے میں کم سے کم سات پاکستانی طالبان شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں طالبان کے ایک کمانڈر قاری سیف الدین بھی شامل تھے۔ یہ خود کش دھماکہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میر علی میں منگل کو ایک گاڑی میں ہوا تھا۔

نامہ نگاروں نے قاری سیف کی گاڑی پر خودکش حملے کو پاکستانی طالبان اور دیگر شدت پسند گرہوں کے درمیان اختلافات کا نتیجہ قرار دیا تھا۔

واضح رہےکہ گذشتہ ماہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں