پشاور: سابق آئی جی پولیس چودہ روز کے جسمانی ریمانڈ پر

Image caption گزشتہ دور حکومت میں ملک نوید تقریباً تین سال تک صوبے کے آئی جی رہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق پولیس سربراہ ملک نوید کو بدعنوانی کے الزامات میں نیب کی عدالت نے چودہ دن کے جسمانی ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

بدھ کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسلحے کی خریداری میں کروڑوں روپے کی کرپشن اور بے قاعدگیوں کے الزام میں ملک نوید کو گرفتار کیا تھا۔

قومی احتساب بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر امداد اللہ کے مطابق نیب نے ایک شکایت پر ملزم ملک نوید کے خلاف تحقیقات کیں جس میں معلوم ہوا کہ سال 2008 سے 2010 کے دوران صوبے کےلیے اسلحے کی خریداری میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی کی گئی اور قومی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔

پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق نیب کے بیان میں مزید کہا گیا کہ صوبائی حکومت نے محکمۂ پولیس کی درخواست پر صوبے میں شدت پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کےلیے اسلحے اور گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی تھی اور اس مقصد کےلیے سات ارب روپے جاری کیے گئے تھے۔

تفتیش کے دوران یہ معلوم ہوا کہ اسلحے اور گاڑیوں کی خریداری کا ٹھیکہ پسندیدہ افراد کو دیا گیا جنھیں اس شعبے میں کوئی تجربہ حاصل نہیں تھا جبکہ رقم بھی پیشگی ادا کی گئی تھی۔

قومی احتساب بیورو اس سکینڈل میں ملوث دو ملزمان بجٹ آفیسر جاوید خان اور اسلحہ فراہم کرنے والے ٹھکیدار ارشد مجید کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیب نے ان دنوں ملزمان کے قبضے سے چودہ کروڑ روپے برآمد کیے ہیں۔

خیال رہے کہ ملزم ملک نوید تقریناً تین سال تک عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کے دوران خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ رہ چکے ہیں وہ ریٹائرمنٹ تک اس عہدے پر فائض رہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا میں یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سکینڈل بتایا جا رہا ہے جس میں بڑے پیمانے پر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔

اسی بارے میں