ایک جانب عجلت تو دوسری طرف خاموشی

Image caption جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں چہ میگویاں شروع ہو گئی ہیں

وزیراعظم نواز شریف کو فوج کے نئے سربراہ کے نام کا اعلان کرنے میں آخر اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے؟ اور اب جنرل کیانی نے جانے سے فقط ایک ہفتہ قبل فوج میں اہم تبادلے کیوں کیے؟ ایک جانب خاموشی تو دوسری جانب عجلت کیوں دکھائی گئی؟ یہ وہ سوال ہے جسے دفاعی تجزیہ نگار مختلف معنی پہناتے دکھائی دیتے ہیں۔

ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) سے وابستہ رہنے والے برگیڈئیر (ر) حامد سعید کہتے ہیں کہ انھیں یہ پتہ چلا ہے کہ جنرل کیانی شہدا ہاؤسنگ سکیم کا افتتاح اپنے ہاتھوں سے کرنے کی خواہش رکھتے ہیں: ’لاہور میں شہدا ہاؤسنگ سکیم تکمیل کے مراحل میں ہے۔ جنرل کیانی کی جانب سے ڈرائیونگ سیٹ پر رہنے کی خواہش کا ایک مقصد یہ بھی ہے کیونکہ وہ شہدا سے نہایت عقیدت رکھتے ہیں۔‘

سابق سیکرٹری فاٹا بریگیڈیئر محمود شاہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کی خاموشی شکوک وشبہات کو جنم دے رہی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ نئے چیف کی مدت ملازمت شروع ہونے سے چند روز پہلے ہی ان کے نام کا اعلان ضروری ہے۔

’حکومت کی وجوہات تو اپنی جگہ لیکن یہ منطق کے خلاف ہے، یہ ضروری تھا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری ہفتہ دو ہفتہ پہلے کی جائے تاکہ وہ ذہنی طور پر تیار ہو سکیں۔‘

یہ نکتہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ شاید وزیراعظم نواز شریف اپنے سابقہ تجربے کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ اس سوال کے جواب میں سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا کہ اب بھی وقت ہے، وزیراعظم کو چاہیے کہ ایک دو روز میں فیصلہ کر دیں۔ انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اصولوں کے مطابق فیصلہ کر دیں اس میں خوف زدہ ہونے کی کیا بات ہے، میرے خیال سے وقت پر فیصلہ کردیں تو مناسب ہوگا۔‘

دفاعی اور خارجہ امور پر نظر رکھنے والے سینئیر تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے کور کمانڈر کراچی سمیت جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کو نہایت سنجیدہ قرار دیا ہے۔

اگر جنرل کیانی کو بغیر وردی کے کوئی مضبوط عہدہ دیا جانا ہوتا تو پھر اس قسم کی غیر معمولی تبدیلیوں کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی، ہاں اس سے شک پیدا ہوتا ہے کہ شاید جنرل کیانی کو ملازمت میں مزید توسیع دے دی جائے۔

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے بتایا کہ سینئیر افسران میں سے کسی ایک کو تو چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف بنانا پڑے گا لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عہدے کے لیے نیوی کے کسی افسر کو چنا جائے اور جنرل کیانی کو ایک سال کی مزید توسیعِ ملازمت دے دی جائے۔ تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آرمی کے تین سینئیر افسر اگلے ایک سال میں ریٹائر ہو جائیں گے۔

پاکستان کی تاریخ میں کئی بار آرمی چیف کی تعیناتی میں سینیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی کی گی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت سول حکومت کی کیا ترجیح ہے۔

بریگیڈیئر محمود شاہ سمجھتے ہیں کہ کور کمانڈر اور دیگر تبدیلیاں غیر معمولی نہیں لیکن بریگیڈیئر (ر) حامد سعید کی نظر میں شاید حکومت اشفاق پرویز کیانی کو ملکی سلامتی کے حوالے سے کوئی اہم عہدہ دینا چاہتی ہے اور اسی وجہ سے اصولوں کی خلاف ورزی کر کے نئے چیف کی آمد سے قبل فوج کے اعلیٰ عہدوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

چند تجزیہ نگارایسے بھی ہیں جو اس معاملے میں حکومت کی خاموشی اور فوج میں اہم تبادلوں کو اہم نہیں سمجھتے۔ سینئرکالم نگار کامران شفیع کا شمار اُن لوگوں میں سے ہے جو کہتے ہیں کہ حکومت کی مرضی ہے جب چاہے نام کا اعلان کرے اور فوج کی مرضی ہے وہ جہاں چاہیں جب چاہیں کسی کو تعینات کریں: ’ کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا جو ہمارے ملک میں ہوتا ہے ایک کور کمانڈر کے اجلاس ہوا اور ادھر شہ سرخی لگ جاتی ہے۔‘

سابق ایئر مارشل شاہد لطیف کہتے ہیں کہ تین سال قبل جب جنرل کیانی کو ملازمت میں توسیع ملی تھی تو اس عہدے کے انتظار میں سینئیر افسران کا راستہ رکا گیا تھا، اب شاید وہ مزید کسی کا راستہ روکنے کے حق میں نہیں ہوں گے۔

لیکن تجزیہ نگار حسن عسکری نے نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان نہ کرنے پر وزیراعظم نواز شریف پر کڑی تنقید کی۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے غیر یقینی پیدا ہو رہی ہے:

’یہ غلط طریقہ ہے۔ وزیراعظم نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان نہ کر کے فوج کے اند غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر رہے ہیں۔سینیئر افسران انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں، وزیراعظم ایک طرح سے ان کی تذلیل کر رہے ہیں۔‘

پاکستان کے آرمی چیف کا عہدہ کسے ملے گا؟ اس کے جواب میں حکومت کہہ چکی ہے کہ وہ سینیارٹی کا اصول مد نظر رکھے گی اور جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے چیف کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔

تجزیہ نگار حکومت کی اس توجیہ کو سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خاموشی سے کچھ اشارے ملتے ہیں۔ اگرچہ ان کے ثبوت تو نہیں لیکن شکوک و شبہات کو تقویت ضرور ملتی ہے، کہ کیا جنرل کیانی کو تیسری بار توسیع ملے گی یا سینیارٹی کا اصول ایک بار پھر ٹوٹے گا یا پھر جنرل کیانی بغیر وردی کے مضبوط پوزیشن حاصل کریں گے۔

اسی بارے میں