سعودی عرب: غیر قانونی پاکستانی کفیلوں سے تنگ، حالات سے پریشان

Image caption مدینہ کے علاقے الفیصلیہ میں ملک چھوڑنے کے منتظر کچھ لوگ

سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے غیر ملکیوں سے متعلق بنائے گئے قوانین کے بعد واپس آنے والے پاکستانیوں نے الزام لگایا ہے کہ سعودی حکومت اپنے شہریوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے اُنھیں نشانہ بنا رہی ہے اور پاکستانی سفارت خانہ بھی اس ضمن میں کوئی مدد فراہم نہیں کر رہا ہے۔

سعودی عرب میں پاکستانی سفیر نے ان پر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتخانے کا عملہ اس معاملے کو ہر سطح پر اُٹھا رہا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس وقت سعودی عرب میں مجموعی طور پر پاکستانیوں کی تعداد 15 لاکھ ہے جن میں غیر قانونی طور پر پاکستانیوں کی تعداد 54 ہزار کے قریب ہے۔

سعودی عرب میں پولیس اور غیر ملکی کارکنوں میں تصادم

سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر محمد مختیار کا کہنا ہے کہ وہاں پر غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔

اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی سفارت خانے کا عملہ بھی تعاون نہیں کر رہا جس سے دل برداشتہ ہوکر پاکستانی سعودی عرب کے مختلف شہروں میں سڑکوں اور پلوں کے نیچے بیٹھے ہیں اور وہ خود سعودی پولیس کے حکام کو کہتے ہیں کہ وہ اُنھیں گرفتار کرکے لے جائیں اور وہاں سے پاکستان بھیجنے کے لیے انتظامات کریں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ وطن واپس جانے والے پاکستانی علی الصبح ہی پاکستانی سفارت خانے کے باہر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اُن میں سے اکثریت ناکام واپس لوٹتی ہے۔

سعودی عرب میں پاکستان کے قائم مقام سفیر خیام اکبر کا کہنا ہے کہ آٹھ لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی حثیت کو قانونی بنایا گیا ہے اور اُنھیں وہاں پر نوکریاں دلوائی گئی ہیں۔ یہ امر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستانی سفارت خانہ اس ضمن میں متحرک ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ جن پاکستانیوں نے سعودی عرب کی طرف سے دی گئی عام معافی سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور وہ ابھی تک سعودی عرب میں ہی ہیں، اُن کا معاملہ بھی سعودی حکام سے اُٹھایا ہے۔

سعودی عرب میں پاکستان کے قائم مقام سفیر خیام اکبر کا کہنا ہے کہ آٹھ لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی حثیت کو قانونی بنایا گیا ہے اور اُنہیں وہاں پر نوکریاں دلوائی گئی ہیں جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستانی سفارت خانہ اس ضمن میں کافی متحرک ہے۔

Image caption یہ لوگ سڑک کنارے رات دن اسی جگہ گزارتے ہیں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ جن پاکستانیوں نے سعودی عرب کی طرف سے عام معافی سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور وہ ابھی تک سعودی عرب میں ہی ہیں، اُن کا معاملہ بھی سعودی حکام کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے۔

ان پاکستانیوں میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ سعودی کفیل مہنگے داموں ویزے بیچ رہے ہیں اور پھر اُنھیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ کم تنخواہ پر کام کریں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان افراد کے ویزے منسوخ کرنے اور پولیس کو اطلاع دینے کی بھی دھمکی دیتے ہیں۔

جنوبی پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ثناء اللہ بھی ایسے ہی افراد میں شامل ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ وہ چار سال قبل ویزے پر سعودی عرب محنت مزدوری کے لیے گئے تھے اور وہاں پر اُنھوں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی۔

اُنہوں نے کہا کہ کفیل کی رضامندی سے اُنھوں نے کسی دوسرے کمپنی میں مارکیٹنگ کے شعبے میں ملازمت شروع کر دی جہاں پر اُنھیں 20 ہزار سعودی ریال ماہانہ تنخواہ ملتی تھی جو پاکستانی روپوں میں پونے چھ لاکھ روپے بنتی ہے۔

ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ جب اُن کے کفیل کو اس بات کا علم ہوا تو اُنھوں نے بلیک میل کرنا شروع کردیا اور 83 ہزار ریال جو کہ پاکستانی 24 لاکھ روپے بنتے ہیں، دینے کا مطالبہ کردیا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ویزا منسوخ کرنے اور پولیس کو اس کی اطلاع دینے کی دھمکی دی۔

اُنہوں نے کہا کہ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اُنہوں نے یہ رقم اپنے کفیل کو دے دی اور پاکستان واپس آگئے۔ ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو دوبارہ کبھی بھی سعودی عرب نہیں جا سکتے تھے۔

حال ہی میں سعودی عرب سےوطن واپس آنے والے محمد راشد بٹ کا کہنا تھا کہ وہاں پر غیر قانونی طور پر رہنے والے افراد کے لیے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جن غیر ملکی افراد نے سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ عام معافی سے فائدہ نہیں اُٹھایا وہ اب مختلف گھروں میں چھپ کر بیٹھے ہیں اور ایسی صورت حال میں وہ باہر جاکر کوئی کام بھی نہیں کرسکتے۔

محمد راشد نے دعویٰ کیا کہ اس وقت سعودی کے شہر دمام کی جیلوں میں 15 ہزار سے زائد غیر ملکی قید ہیں جن میں سے اکثریت پاکستانیوں کی ہے۔

پشاور کے رہائشی ظاہر شاہ کا کہنا ہے کہ وہ محنت مزدوری کے لیے سعودی عرب گئے تھے لیکن وہاں پر سعودی حکام نے ٹیکسوں اور ویزوں کی فیس میں اتنا زیادہ اضافہ کردیا ہے کہ عام مزدور کا وہاں رہنا مشکل ہوگیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پہلے سعودی حکومت ورک پرمٹ کے لیے ٹیکسوں کی مد میں سات سو ریال لیتی تھی جسے اب بڑھا کر 3200 ریال کردیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں گزارا کرنا عام مزدور کے لیے انتہائی مشکل تھا اور اس لیے لوگ خود کو سعودی پولیس کے حوالے کر رہے ہیں تاکہ اُنہیں پاکستان واپس بھجوایا جائے۔

سعودی عرب میں قائم مقام پاکستانی سفیر خیام اکبر کا کہنا تھا کہ 54 ہزار غیر قانونی پاکستانیوں میں سے 22 ہزار سے زائد وہ افراد ہیں جو حج یا عمرے کے ویزے پر آئے تھے اور پھر واپس نہیں گئے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کی جیلوں میں پاکستانیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسی بارے میں