بلوچ لاپتہ افراد کے لیے لانگ مارچ کراچی پہنچ گیا

Image caption نوجوانوں کے علاوہ بلوچ خواتین کی بھی ایک قابل ذکر تعداد موجود تھی

’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کا کوئٹہ سے کراچی تک پیدل لانگ مارچ جمعہ کو اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ستائیس اکتوبر کو کوئٹہ سے اس مارچ کا آغاز کیا گیا تھا۔

پہاڑوں اور میدانی علاقوں کا سفر طے کر کے مارچ کے شرکا جمعرات کی شام کراچی میں داخل ہوئے اور جمعہ کو حب ریور روڈ ، شیر شاہ اور بلوچ آبادی کے علاقے لیاری سے ہوتے ہوئے کراچی پریس کلب پہنچے۔

مارچ کے شرکا کا مواچھ گوٹھ، شیر شاہ، لیاری اور آخر میں پریس کلب کے باہر والہانہ استبقال کیا گیا۔ نوجوانوں کے علاوہ بلوچ خواتین کی بھی ایک قابل ذکر تعداد موجود تھی۔

مارچ کے حفاظتی انتظام کی ذمے داری بلوچ نوجوانوں نے اٹھا رکھی تھی، جو جلوس کے چاروں اطراف چل رہے تھے اور شناخت سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنے چہرے ڈہانپ رکھے تھے۔ ایک نوجوان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اس احتجاج میں شرکت کے بعد وہ لاپتہ ہوجائیں اور بعد میں ان کی لاش ملے اس لیے انہوں نے اپنے چہرے چھپا رکھے ہیں۔

مارچ کے روح رواں قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہی انھوں نے اس مارچ کا آغاز کیا تھا لیکن اس مارچ کے دوران بھی مکران، آواران، تربت اور دیگر علاقوں سے نوجوان اٹھائے گئے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملی رہی ہیں۔ ان کے خیال میں اس کا مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جائے تاکہ وہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا ذکر تک نہیں کریں۔ لیکن قدیر بلوچ سمجھتے ہیں کہ ریاستی اداروں کی یہ چالیں ناکام ثابت ہوں گی۔

بی ایس او آزاد کے لاپتہ نوجوان ذاکر مجید کی ہمشیرہ فرزانہ کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو کا بیان قابل مذمت ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بلوچستان سے لاپتہ لوگوں کی لاشیں ملنے کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔

Image caption مارچ کے شرکا کا مواچھ گوٹھ، شیر شاھ ، لیاری اور آخر میں پریس کلب کے باہر والہانہ استبقال کیا گیا

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ احتجاجی کیمپوں میں بیٹھ بیٹھ کر مطالبات کرتے رہے لیکن ریاستی اداروں نے کبھی ان کی نہیں سنی اور آخر انہوں نے پیدل مارچ کا اقدام اٹھایا۔ اس مارچ میں ان کے پاؤں زخمی ہوگئے، چہرے گرمی کی تپش سے جلھس گئے، انہوں نے ایک طرح خود پر تشدد کیا۔

فرزانہ مجید کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے اداروں کو بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نوٹس لینا چاہیے کیونکہ اب ان کا پاکستان کے ریاستی اداروں سے ایمان اٹھ چکا ہے۔

اس مارچ کے اختتام کے بعد وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ قائم کیا جائے گا، جو غیر اعلانیہ مدت تک قائم رہے گا۔ اس سے پہلے بھی کراچی، اسلام آباد اور کوئٹہ میں یہ کیمپ قائم کیا جا چکا ہے۔

اس مارچ کے حصے میں کامیابی آئے نہ آئے لیکن کوئٹہ سے لے کر لیاری تک بلوچوں کو متحرک اور منظم کرنے کی یہ ایک بڑی کوشش تھی، جو گزشتہ ایک دہائی میں نظر نہیں آئی۔

اسی بارے میں