کراچی: مذہبی جماعتوں کا احتجاج اور مظاہرے

Image caption کراچی میں اہل سنت و الجماعت نے شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر کے مقام پر جلسے کا اعلان کیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گزشتہ شب سے صورتحال کشیدہ ہے، وفاق المدراس لعربیہ نے عاشورہ کے روز راولپنڈی میں پیش آنے والے واقعے کے خلاف یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سھیل کے مطابق اہل سنت و الجماعت نے شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر کے مقام پر جلسے کا اعلان کیا تھا، اس کے علاوہ شیعہ تنظیموں نے بھی جمعے نماز کے بعد احتجاج کا اعلان کر رکھا جس کے بعث صورتحال میں تناؤ پیدا ہوگیا لیکن بعد میں شیعہ تنظیموں نے اپنا احتجاج اتوار تک موخر کردیا ہے۔

اہل سنت و الجماعت نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی درخواست پر اپنا جلسہ تبت سینٹر کے بجائے گرومندر چوک پر منقتل کردیا ہے جہاں صبح سے کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کرکے کئی سڑکوں کو بند کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جلسے گاہ کے قریب شیعہ کمیونٹی کے مرکزی امام بارگاہ شاہ خراساں بھی موجود ہے، جہاں پولیس اور رینجرز کی نفری میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

Image caption کراچی میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر حفاظتی انتظامات سخت ہیں

غیر یقینی کی صورتحال کے باعث آج سڑک پر پبلک ٹرانسپورٹ معمول سے کم ہے جبکہ کئی نجی اسکول بھی نہیں کھل سکے ہیں، گزشتہ شب پرائیوٹ اسکولوں کی ایک تنظیم نے اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ تمام اسکول معمول کے مطابق کھلیں گے۔

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کا کہنا ہے کہ شہر کی صورتحال کو دیکھ کر گاڑیاں چلانے کا فیصلہ کیا جائے گا، گزشتہ شب سے جمعے کی صبح تک ٹی وی چینلز شہر کی تاجر تنظیمیوں کے یہ اعلامیہ نشر کرتے رہے ہیں کہ آج بازار اور مارکیٹیں کھلی رہیں گی۔

دوسری جانب رینجرز کے اعلامیے میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ تمام مذہبی جماعتیں امن کے قیام میں امن کردار ادا کرتی رہیں گی، ترجمان کے مطابق اگر کسی کے پاس اسلحہ نظر آیا یا کوئی اسلحے سمیت گرفتار ہوا اس کے خلاف انسداد دہشت گردی کے نئے قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں