پاکستان افغانستان سے امریکی انخلا پر خوفزدہ کیوں؟

Image caption لویا جرگہ 2014 کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کے معاہدے پر غور کر رہا ہے

پاکستان کا افغانستان کی جنگ میں کردار اب یکسر تبدیل ہوتا نظر آتا ہے۔ایک وقت تھا جب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ملک میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کا الزام افغانستان میں مغربی افواج کی موجودگی کو قرار دیتی تھی۔ اب وہی اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ امریکہ سنہ 2014 میں یکسر افغانستان کو چھوڑ کر نہ چلا جائے بلکہ یہ انخلا مرحلہ وا ہونا چاہیے۔

اس کی ایک وجہ تو مالی فائدہ ہو سکتا ہے۔ جب سے پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں شامل ہوا ہے اسے 20 ارب ڈالر کی امداد مل چکی ہے۔ اس امداد کا زیادہ تر حصہ فوج کے حصے میں آیا۔

پاکستان کو افغان جنگجوؤں پر اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکہ کے علاوہ دوسرے طاقتور ملکوں میں اہمیت ملتی تھی۔

افغانستان کے عمائدین پر مشتمل لویا جرگہ 2014 کے بعد افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد وہاں فوجیں رکھنے سے متعلق ایک دس سالہ معاہدے پر غور کر رہا ہے۔ اگر لویا جرگہ 2014 کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کے رہنے کا معاہدے کی توثیق نہیں کرتا ہے تو کیا پاکستان کے لیے تمام راستے بند ہو جائیں گے۔

پاکستانی اور افغان طالبان کا بڑھتا ہوا تعاون پاکستان کے لیے ایک اور بڑی پریشانی کا باعث ہے۔

تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کے جس طوفان نے پچھلے ایک عشرے سے افغانستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے وہ اب پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد اگر طالبان وہاں مضبوط طاقت بن جاتے ہیں تو پاکستان کی حکومت اور فوج دونوں کے لیے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔

دہشتگردی کے جنگ میں پاکستان کا کردار بدلتا رہا ہے۔

امریکہ نے2001 میں جب افغانستان پر یلغار کا فیصلہ کیا تو پاکستان ایک ’فرنٹ لائن سٹیٹ‘ بن کر ابھرا۔ 2008 میں جب فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے جمہوریت بحال کی اس وقت پاکستان پر دوغلی پالیسی اپنانے کے الزامات لگنا شروع ہو چکے تھے۔

عالمی طور پر پاکستان پر الزامات لگنا شروع ہوگئے تھے کہ پاکستان دوہرا کھیل کھیل رہا ہے اور پاکستان کو ملنی والی امداد پر بھی سوال اٹھنا شروع ہو چکے تھے۔

ملک کے اندر دائیں بازو کی جماعتوں نے یہ اعتراض کرنا شروع کر دیا کہ یہ پاکستان کی جنگ نہیں ہے اور پاکستان کسی اور کی جنگ کو گھر میں لے آیا ہے۔

دہشتگردی کےخلاف جنگ کے ابتدائی چھ برسوں میں پاکستان نے نہ صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کوالقاعدہ کی سرگرمیوں کے بارے میں انٹیلی جنس مہیا کی بلکہ اپنی سرزمین اور فضائی حدود بھی امریکہ کے لیے کھول دیں۔ پاکستان نے امریکہ کو اپنی سرزمین سے طالبان کو نشانہ بنانے کے اڈے بھی مہیا کیے۔

اسی دوران پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد پر نگرانی کم کر دی جس سے القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں بنا لیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے قبائلی علاقوں کا نیم خود مختاری کا درجہ اور افغانستان کے ساتھ اپنے لمبی سرحد نے پاکستان کو اس بات کی تردید کا موقع فراہم کیا کہ وہ جان بوجھ افغانستان کے حالات کو بگڑانے کا ذمہ دار ہے۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں اب ایک خدشہ پایا جاتا ہے کہ پڑوس میں امریکی افواج کی موجودگی پاکستان کے جوہری پروگرام کےلیے ایک خطرہ ہیں۔

پاکستان کو ڈر تھا کہ اگر حامد کرزئی کی قیادت میں افغانستان ایک مستحکم ملک بن گیا تو اس کے ازلی دشمن بھارت کا افغانستان میں اثر و رسوخ بڑھےگا اور پاکستان اور افغانستان کا سرحدی تنازع ایک مرتبہ پھر سر اٹھا سکتا ہے۔

Image caption پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا مرحلہ وار ہو

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان اس مفروضے پر عمل کر رہا تھا کہ کوئٹہ شوریٰ سے منسلک افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو افغانستان سے نکال باہر کریں گے اور جب وہ کابل پر قبضہ کر لیں گے تو پاکستان تحریک طالبان کو باآسانی قابو کر لے گا۔

تجزیہ نگار اسماعیل خان کا کہنا ہے کہ 2011 میں پاکستان پر یہ واضح ہوگیا کہ طالبان افغانستان میں بدامنی تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن مکمل فتح حاصل نہیں کر سکتے۔

پاکستانی پالیسی سازوں کو حال ہی اس بات کا بھی اندازہ ہوا ہے کہ القاعدہ، افغان طالبان پاکستانی طالبان اور ان کے پنجابی اتحادیوں ایک ہی لڑی میں پروے ہوئے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ کسی ایک کے خلاف کارروائی دوسرے کو ناراض کرتی ہے۔

طالبان کے قریبی لوگ پاکستان اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر کی حمایت کا تو اعتراف کرتے ہیں لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ پاکستان ان کی حمایت کیوں کرتا ہے۔

ایک تاثر ہے کہ 2014 کے بعد بھی افغان طالبان پاکستان کو دباؤ میں رکھیں گے اور افغانستان سے نیٹو افواج کی روانگی کے بعد بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں کو مستقل طور پر اپنے زیر اثر رکھیں گے۔

ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے پاکستانی ابھی تک افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کے بارے میں کوئی واضح رائے نہیں رکھتے لیکن انہیں تھوڑے عرصے کے لیے امریکی افواج کی موجودگی سے زیادہ پریشانی نہیں ہو گی۔

افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی سے نہ صرف پاکستان کو اپنے ملک میں سکیورٹی کی صورتحال پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی بلکہ یورپی امداد بھی جاری رہے گی۔