’عمران خان پوائنٹ سکورنگ میں آگے نکل گئے‘

Image caption عمران خان نے خیبر پختونخواہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نیٹو سپلائی بند کرنے پر غور کرے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت پر نیٹو سپلائی بند کرنے کی درخواست پر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کو نیٹو سپلائی بند کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور اس قسم کے مطالبات سے عمران خان اپنی ہی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

سنیچر کو عمران خان نے پشاور میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نیٹو سپلائی بند کر رہی ہے اور صوبائی حکومت بھی سپلائی بند کرنے پر غور کرے۔

’ڈرون حملے رکنے تک خیبر پختونخوا سے نیٹو سپلائی بند‘

ڈرون حملوں کے خلاف پی ٹی آئی کا دھرنا: تصاویر

کیسے سمجھائیں عمران کو!

تجزیہ کار راشد رحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان اس قسم کے بیانات سے اپنی ہی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں کیونکہ نیٹو سپلائی بند کرنے کا فیصلہ خارجہ پالیسی سے متعلق ہے اور صوبائی حکومت کا اس پر اختیار نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ کیونکہ یہ آئینی تقاضوں کے خلاف ہے اس لیے سنیچر کو احتجاجی دھرنے میں صوبائی حکومت نے شامل ہونے سے انکار کیا ہے اور اگر صوبائی حکومت خارجہ پالیسی کی اس حد مخالف ہو جائے یا عملی جامع پہنا دے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور اسے برخاست کیا جا سکتا۔‘

انہوں نے کہا ’عمران خان کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ آیا وہ نیٹو سپلائی روکنے کے بدلے اپنی صوبائی حکومت کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

راشد رحمان کے مطابق نیٹو سپلائی بند کرنے سے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ان کے پاس وسط ایشیا سے سپلائی کا متبادل راستہ موجود ہے۔

اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ نیٹو سپلائی بند کرنے کے اعلان کے دو پہلو ہیں۔

’سیاسی پہلو کے حوالے سے مسلم لیگ نون، تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام ف ہو یا جماعت اسلامی، یہ سب ڈرون حملوں کے خلاف ہیں اور نیٹو سپلائی روکنا چاہتے ہیں لیکن اس میں پوائنٹ سکورنگ میں عمران خان آگے نکل گئے ہیں، لیکن میں اگر بات کی جائے دور اندیشی اور ملکی مفاد کی تو اس میں کوئی حکمت نطر نہیں آتی ہے کیونکہ سپلائی بند کرنے سے 52 ممالک سے سفارتی تعلقات متاثر ہوں گے۔‘

عمران خان کی جانب سے صوبائی حکومت کو نیٹو سپلائی بند کرنے پر غور کرنے کی درخواست پر سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’یہ بالکل دوغلی بات ہے کہ سیاسی جماعت احتجاج کر رہی ہے اور اسی جماعت کا وزیراعلیٰ احتجاج نہیں کر رہا، اسی طرح سے وفاق میں حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کر رہی ہے، اس کے تین وزیر ایک ہی اجلاس میں بیٹھے ہوں گے اور باہر نکل کر تین مختلف باتیں کریں گے‘۔

انھوں نے کہا کہ اب مزید اس طرح نہیں چلے گا ’عوام کو سچ بتائیں کہ آپ چاہتے کیا ہیں، کیا ہم امریکہ سے لڑائی کرنا چاہیے ہیں یا دوستی کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے عوام کو تیار کرنا چاہیے۔‘

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا ’کیا ایک صوبائی حکومت ملک کی خارجہ پالیسی طے کر سکتی ہے، خیبر پختونخوا کی حکومت نیٹو سپلائی کی مخالف ہو، وفاقی حکومت حمایت کرے اور بلوچستان سے سپلائی جا رہی ہو تو یہ الگ الگ ملکوں والی بات ہے اور اس طرح سے دنیا میں کبھی نہیں ہوا۔‘

سہیل وڑائچ کے مطابق ڈرون حملے ملکی خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں لیکن اگر دوسری جانب امریکہ کا موقف سنیں تو وہ کہتے ہیں کہ جو ہمارے اوپر حملے کرتے ہیں ان کا احتساب کون کرے گا اور اس کا جواب بھی دینا ہو گا۔‘

تجزیہ کار راشد رحمان کے مطابق وفاقی حکومت اچھی طرح سے سمجھتی ہے کہ پاکستان کے کئی مفادات امریکہ سے وابستہ ہیں کیونکہ ملک کی معاشی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے ہیں کہ ہم امریکہ سے تعلقات منقطع کر دیں۔

ان کے بقول صوبائی حکومت جانتی ہے کہ اس کے اثرات صرف دو طرفہ تعلقات پر ہی نہیں پڑیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ’چونکہ پاکستان کا انحصار آئی ایم ایف اور دیگر عالمی معاشی اداروں پر ہے اس لیے وفاقی حکومت اس ذمہ داری سے اچھی طرح سے واقف ہے۔‘

’احتجاج کرنا اور امریکہ سے کہنا کہ براہ مہربانی ڈرون حملے بند کر دیں، یہ الگ بات ہے اور ایسا فیصلہ کرنا جس سے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو وہ نقصان دے ثابت ہو سکتی ہے۔‘

پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کا ڈرون حملوں کی وجہ سے ملک میں شدت پسندی میں اضافے کے موقف پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مفروضے میں صداقت نہیں ہے۔

تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شدت پسندی کا مسئلہ ڈرون حملوں سے پہلے کا ہے اور ڈرون حملوں میں قبائلی علاقوں میں زیادہ تر وہ لوگ مارے گئے جو بغیر پاسپورٹ اور بغیر ویزے کے پاکستان کی حدود میں آئے اور یہ بھی ملکی خودمختاری کے خلاف ہے۔

راشد رحمان کے مطابق ’یہ بالکل غلط بات ہے کیونکہ ملک میں دہشت گردی ڈرون حملوں کے بعد شروع ہوئی اور نا ہی ڈرون حملے بند ہونے سے ختم ہو جائے گی کیونکہ مثال کے طور پر اگر کالعدم تحریک طالبان کو ہی دیکھیں تو ان کا موقف بڑا واضح ہے کہ وہ اپنی سوچ کے مطابق طاقت کے زور پر پاکستان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اس میں اگر ڈرون ہوں یا نہ ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے‘۔

اسی بارے میں