کراچی: دھماکوں سے پانچ ہلاک، شہر میں یومِ سوگ

Image caption زخمیوں سے جائے وقوعہ پر کھڑی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جمعے کی شب ہونے والے دو دھماکوں میں پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد سنیچر کو شیعہ تنظیموں اور متحدہ قومی موومنٹ کی اپیل پر یومِ سوگ منایا جا رہا ہے۔

یہ دھماکے شہر کے شیعہ اکثریتی علاقے انچولی میں رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ہوئے تھے۔

کراچی: مذہبی جماعتوں کا احتجاج اور مظاہرے

چائے کے ہوٹل کے باہر ہونے والے ان دھماکوں سے جائے وقوعہ پر کھڑی گاڑیوں اور دو موٹر سائیکلوں کے علاوہ سگریٹ اور پان کے ایک کیبن کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ابتدائی طور پر ان دھماکوں میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی لیکن سنیچر کی صبح عباسی شہید ہپستال کے میڈیکل لیگو افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہسپتال میں ایسے پانچ افراد کی لاشیں موجود ہیں جو ان دھماکوں میں مارے گئے ہیں۔

طبی حکام کے مطابق دھماکوں میں بچوں سمیت تیس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں اٹھائیس عباسی شہید ہپستال میں ہی زیرِ علاج ہیں جبکہ دیگر نجی ہپستالوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو بال بیئرنگ اور لوہے کے ٹکڑے لگے ہیں اور ان میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ان دھماکوں کے خلاف شیعہ تنظیموں مجلس وحدت مسلمین اور شیعہ علما کونسل نے تین روزہ جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے ایک روز سوگ کا اعلان کیا ہے۔

ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے اپیل کی ہے کہ جماعت کے کارکن سیاہ جھنڈے لگائیں تاہم ان کا یہ کہنا تھا کہ اس موقع پر تعلیمی ادارے اور کاروبار بند نہ کیے جائیں۔

تنظیم اہل سنت و الجماعت نے بھی ان دھماکوں کی مذمت کی ہے اور تنظیم کے رہنما اورنگزیب فاروقی نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ سازشوں کا شکار نہ ہوں۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے آئی جی سندھ اور رینجرز حکام کو ہدایت کی ہے کہ دھماکے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور لوگوں کی جان اور مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

انھوں نے دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان واقعات سے ملزمان کے خلاف جاری آپریشن متاثر نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ کراچی میں چودہ نومبر کو بھی دو امام بارگاہوں پر تین بم حملوں میں کم از کم 15 افراد زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان میں کئی سالوں سے دہشت گردی کی لہر جاری ہے اور گزشتہ جمعے کو راولپنڈی کے راجہ بازار میں واقع مدرسہ تعلیم القران میں یومِ عاشور کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تصادم میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں