خیبر ایجنسی:پولیو مہم میں شریک 4 اساتذہ اغوا

Image caption پاکستان میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر ماضی میں بھی حملے ہو چکے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پولیو مہم میں حصہ لینے والے چار اساتذہ کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے علاقے سپاہ میں سنیچر کو پیش آیا ہے۔

مقامی پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ باڑہ میں رواں ماہ کی 18 سے 20 تاریخ تک تین روزہ پولیو مہم چلائی گئی تھی جن میں یہ اساتذہ بھی شریک تھے۔

اہلکار کے مطابق اغوا کیے جانے والے چاروں افراد کا تعلق مقامی نجی سکول سے ہےاور ان کی بازیابی کے لیے مقامی سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔

تاحال کسی گروپ نے ان اساتذہ کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسند عناصر انسداد پولیو مہم کی شدید مخالفت کرتے ہیں اور ماضی میں وہاں کئی بار پولیو ٹیموں پر حملے بھی ہوئے ہیں جن کی وجہ سے یہ مہم روکنی بھی پڑی تھی۔

گذشتہ سال جون میں بھی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر قبائلی علاقوں شمالی و جنوبی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم ملتوی کردی گئی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس سال اب تک پینتیس سے زائد مریضوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق خیبر ایجنسی پاکستان میں پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے جس کی اہم وجہ یہاں امن وامان کی مخدوش صورت حال اور افغانستان کا سرحدی علاقہ ہونا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں سے اب تک پولیو کے وائرس کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے اور رواں برس بھی قبائلی علاقوں میں ڈھائی لاکھ بچوں کو اس وائرس کے خاتمے کے لیے قطرے نہیں پلائے جا سکے ہیں۔

اسی بارے میں