مگر ماما تو گاندھی نہیں

Image caption گاندھی تو غلام ہندوستان میں لاپتہ آزادی کی تلاش میں پیدل نکلا تھا پر ماما تجھے کیا سوجھی کہ ایک آزاد ملک کے لاپتہ غلاموں کی تلاش میں پیر پے پٹی باندھے نکل کھڑا ہوا

ماما قدیر! تجھ سے پہلے برِصغیر میں اتنے طویل پیدل مارچ کی بس ایک مثال ہے جب گاندھی نے احمد آباد کے صابر متی آشرم سے بارہ مارچ 1930 کو 390 کلومیٹر کا سفر شروع کیا۔

24 دن جب یہ مارچ گجرات کے ساحلی گاؤں ڈنڈی پہنچا اور گاندھی نے نمک ہاتھ میں لے کر اس پر ٹیکس نہ دینے کا اعلان کیا تو انگریز سرکار کو لگا جیسے نمک اس کی آنکھوں میں پڑ گیا ہو اور پھر واقعات کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ 15 اگست 1947 کو انگریز نمکین آنکھیں لیے ہندوستان سے رخصت ہوگیا۔

مگر ماما قدیر تو نے تو 70 سال کی عمر میں گاندھی کا پیدل ریکارڈ بھی توڑ دیا اور مسلسل ٹھیلہ کھینچنے والے دس سالہ علی حیدر اور آٹھ عورتوں سمیت 20 لوگوں کو گمشدگان کی تصویریں تھما کر کوئٹہ تا کراچی 27 دن، 29, 30 کلومیٹر روزانہ چلوا کے 756 کلومیٹر کا فاصلہ کیسی سہولت سے طے کروا دیا۔

گاندھی تو غلام ہندوستان میں لاپتہ آزادی کی تلاش میں پیدل نکلا تھا۔ پر ماما تجھے کیا سوجھی کہ ایک آزاد ملک کے لاپتہ غلاموں کی تلاش میں پیر پo پٹی باندھے نکل کھڑا ہوا۔

مگر ماما تو گاندھی تو پھر بھی نہیں۔ اس کے مارچ میں تو ہزاروں لوگ شامل ہوتے چلے گئے مگر تیرے ساتھ 20 چلنے والے 21 نہ ہوسکے۔ حیرت ہے وہ عورت بی بی گل کیسے تیرے ساتھ کوئٹہ سے کراچی تک پیدل چلتی رہی جس کا اب تک تو کوئی پیارا غائب نہیں ہوا۔

اچھا ماما ایک بات تو بتا: اگر گاندھی کا کوئی بیٹا تیرے بیٹے کی طرح غائب ہوکر گولیوں سے چھلنی مل جاتا اور صابر متی آشرم سے ڈنڈی تک گنجان نہیں سنسان پہاڑی راستہ ہوتا اور راستے میں انگریز سرکار موت سے مسلح کرائے کے دستے چھوڑ دیتی، اور مارچ میں شریک لوگوں کو چہروں پر خوف کے نقاب لگانے پڑ جاتے اور انہیں راستے میں کھانا دینے والوں کو بھی اپنی شناخت کا ڈر رہتا تو کیا پھر بھی ہزاروں لوگ والہانہ اس مارچ میں شریک ہوتے چلے جاتے؟

شکر ہے ماما تجھ سمیت 20 نفوس صحیح سلامت ویرانوں سے گزرتے 19 ہوئے بغیر کوئٹہ سے کراچی سالم پہنچ گئے۔ کیا یہ کم مہربانی ہے کہ ایک زناٹے دار کار تجھے کچلے بغیر تین چکر لگا کے واپس چلی گئی۔ اور کیا یہ کم ہے کہ جیسے ہی تیرے قافلے نے 26 دن پیدل کے بعد غائبستان کی سرحد عبور کی تو تیرے 60، 70 منتظر پرستار بھی قافلہ بردار بن گئے اور کراچی پریس کلب تک پورے 26 کلومیٹر تیرا مکمل ساتھ دیا۔

اور پھر دیکھ پریس کلب کے باہر انسانی حقوق کمیشن والوں نے اپنی گاڑیوں سے اتر کر اور صحافیوں نے اور ان کی نشریاتی ویگنوں نے تیرا کیسا شاندار ریٹنگ والا استقبال کیا اور تیری عظمت کو سلیوٹ کیا اور تیرے ساتھ فوٹو کھنچوائے۔

ماما اس سے زیادہ ہم کیا کریں؟ ایک ملین دستخطوں کی مدد سے لاہور تا گوجرانوالہ 74 کلومیٹر کے لانگ مارچ سے بحال ہونے والے ججوں کی اپنی مجبوری؟ جسٹس جاوید اقبال کمیشن کی اپنی مجبوری۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی اپنی بے چہرگی ۔۔۔ تو تو سب جانتا ہے ماما۔۔۔

ماما یقین کر کہ صرف آر سی ڈی ہائی وے کے دونوں طرف پھیلے خشک پہاڑ اور انسان نما ہیولے ہی تیرے ساتھ نہیں۔ لاتعداد درد مند این جی اوز، ہر ڈرون زدہ معصوم کی ہلاکت پر چیخ اٹھنے والی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں، سپاٹ چہروں کے پیچھے درد مند دل چھپائے سارے سرکاری کارندے، بلوچستان کو یورپ کے ہم پلہ ترقی دینے کے عزم سے سرشار تاجر و صنعت کار و ساہوکار و غیرملکی دوست سب تیرے ساتھ ہیں۔

کیا تو نے نہیں پڑھا کہ منصور حلاج بغداد کے بازار سے پابجولاں گذرا تو پورا بغداد اظہارِ یکجہتی کے لیے دونوں طرف احتراماً چپ کھڑا تھا۔

ماما تو جہاں بھی جائے گا ہم تیرے ساتھ ہیں۔ کوئٹہ سے اسلام آباد اور اقوامِ متحدہ تک ہر جگہ۔ بس ہم سے آنکھیں مت ملا ماما ۔۔۔ اپنی بے بسی کی طرح ہماری مصلحتیں بھی اپنے وسیع چٹیل سینے میں چھپا لے۔

تجھ سے بہتر کون جانتا ہے کہ تو نے اپنا بیٹا کیوں گنوایا۔

اسی بارے میں