شمالی وزیرستان اور کرّم میں دھماکے، دو اہلکاروں سمیت 5 ہلاک

Image caption شمالی وزیرستان میں ہونے ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز پر حملوں میں پھر تیزی آئی ہے۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور کرم ایجنسی میں ہونے والے بم دھماکوں میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں اتوار کی صبح سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بم علاقے سےگزرنے والی مرکزی سڑک پر نصب کیا گیا تھا اور دھماکے میں پانچ اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

دوسری جانب قبائلی علاقے کرّم ایجنسی میں ہونے والے ایک دھماکے میں بھی تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق کرم ایجنسی کے نواحی علاقے شبلان میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ ہوا جس میں تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہی ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہو گئے تھے۔

جس کے بعد شمالی وزیرستان میں فوج اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔

اس سے پہلے 20 نومبر کو شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسی روز صوابی میں پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جس پر کی جانے والے جوابی کارروائی میں چار شدت پسند مارےگئے تھے۔

اسی بارے میں