طالبان کے بارے میں حکومت کا مفاہمتی رویہ خطرے کی گھنٹی؟

Image caption حکومتِ پاکستان کو سوات سے ملا فضل اللہ کی عملداری ختم کرنے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کی ضرورت پڑی تھی

پاکستانی طالبان نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش رد کر دی ہے تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے چیئرمین سینیٹر راجہ ظفر الحق نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت پاکستانی طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے ہر ممکن ذرائع استعمال کرے گی۔

راجہ ظفر الحق نے بات چیت میں طالبان پر تنقید سے بھی اجتناب کیا اور ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے فائدے سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے اور ہم ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں ان کے خلاف ایسا کچھ نہیں کہنا چاہتا جس سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔‘

مسلم لیگ نواز کے چیئرمین نے یہ نہیں بتایا کہ طالبان سے بات چیت کو کامیاب بنانے کے لیے کن نکات پر بات ہوگی اور ان کا کہنا تھا کہ جب بیٹھ کر طالبان کے مطالبات سنے جائیں گی تبھی صورتحال واضح ہوگی۔

حکومت کی جانب سے اس مفاہمتی رویے نے کچھ حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

دفاعی تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کے سابق جرنیل طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ ’یہ حکومت اور ریاست کی شدید کمزوری کا مظہر ہے۔‘

انھوں نے کہا ’شدت پسند اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔ آپ ان قوتوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈال سکتے جو ریاست کی سالمیت اور آئین اور جمہوریت میں یقین نہیں رکھتیں۔‘

پاکستان میں چھ برس قبل طالبان نے جو مہم شروع کی تھی اس کا مقصد موجودہ سیاسی نظام کو ختم کر کے شرعی قوانین پر مشتمل نظامِ حکومت کا نفاذ تھا۔ ان کی اس مہم کے دوران پاکستان میں ہزاروں افراد بم دھماکوں اور حملوں میں ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

اور یکم نومبر کو تنظیم کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان کی قیادت ایک ایسے شخص کے ہاتھ آ گئی ہے جو اپنے انتہائی شدت پسند خیالات کے لیے جانا جاتا ہے۔

ملا فضل اللہ پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے کمانڈر تھے اور وہاں اپنے ریڈیو سٹیشن کے ذریعے عوام پر احکامات صادر کرتے تھے جن میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کا حکم بھی شامل تھا۔

ان احکامات کو نہ ماننے پر لوگوں کو سرعام کوڑے مارے جاتے تھے یا پھر انہیں ہلاک کر کے ان کی لاشیں مینگورہ کے مرکزی چوک میں لٹکا دی جاتی تھیں۔

سوات سے ملا فضل اللہ کی عمل داری ختم کرنے کے لیے ایک بڑے فوجی آپریشن کی ضرورت پڑی اور اس کے باوجود وہ اب بھی اس علاقے میں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور گذشتہ برس ملالہ یوسفزئی پر حملہ اس کی مثال ہے۔

ملا فضل اللہ کے پیشرو حکیم اللہ نے اس بات کے اشارے دیے تھے کہ وہ پاکستانی حکومت سے بات چیت کر سکتے ہیں، تاہم اب فضل اللہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالبان کے مرکزی کمانڈر کے طور پر انھوں نے حکومت کی قیامِ امن کے لیے بات چیت کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

سکیورٹی ماہرین اور حکام کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں پاکستانی فوج اور حکومت نے شدت پسندوں سے نو امن معاہدے کیے۔

قبائلی علاقوں کے امور کے ماہر پروفیسر خادم حسین کے خیال میں انھی معاہدوں کی وجہ سے طالبان کا اثر و رسوخ قبائلی علاقوں سے نکل کر بندوبستی علاقوں تک جا پہنچا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’طالبان نیٹ ورک کو بات چیت اور ان معاہدوں کے ذریعے ہی قانونی حیثیت ملی۔‘

خادم حسین کے مطابق ’یہی نہیں بلکہ اس وجہ سے انہیں دوبارہ اکٹھا ہونے اور اپنی افرادی طاقت و رسد میں اضافے کے علاوہ اپنے جہاد کے پیغام کو پھیلانے کے مواقع ملے۔‘

ان کے خیال میں اب پاکستان کے مرکزی شہروں اور قصبوں میں شدت پسند گروپوں کے ’سلیپر سیل‘ ہیں اور ملا فضل اللہ وہ رہنما ہیں جو ان گروپوں سے کام لے سکتے ہیں۔

پروفیسر خادم حسین نے کہا کہ ’اگر پاکستان اس نیٹ ورک کے بارے میں کچھ اقدامات نہیں کرتا تو پاکستان کے داخلی تانے بانے پر سوال اٹھیں گے۔ اس لیے پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشٹمنٹ اور سیاسی قیادت کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ پاکستان مضبوط رہے اور دنیا سے الگ تھلگ نہ ہو جائے۔‘

خادم حسین کے خیال میں یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے حکومت کو وسیع پالیسی اپنانا ہوگی جس میں شدت پسندوں کے ذرائعِ آمدن کو محدود کرنے کے علاوہ ان شدت پسند نظریات کا مقابلہ کرنے کے اقدامات بھی شامل ہوں جو اس وقت معاشرے اور ریاست دونوں میں مقبول ہو رہے ہیں۔

تاہم اس وقت پاکستانی حکومت کی سوچ محدود دکھائی دیتی ہے: امن کے لیے مذاکرات کرو اور اگر کئی ماہ بعد پاکستانی طالبان جواب نہیں دیتے تو پھر شمالی وزیرستان میں ان کے ٹھکانوں پر ایک اور فوجی آپریشن کیا جائے۔

لیکن اس فوجی آپریشن کے خیال پر بھی شاید سوال اٹھیں کیونکہ حکومت اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق چاہے گی جس کا حصول مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں