’بّری فوج کے نئے سربراہ کی تقرری میں تاخیر غیرمناسب‘

Image caption پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بّری فوج کے موجودہ سربراہ جنرل کیانی کے عہدے میں تین سال کی توسیع کی گئی تھی۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بّری فوج کے نئے سربراہ کی تقرری میں تاخیر پر وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بّری فوج کے نئے سربراہ کی تقرری میں تاخیر غیر مناسب ہے اور ایک ماہ پہلے حکومت کو نئے سربراہ کا اعلان کر دینا چاہیے تھا۔

آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس کی تعیناتی ایک ساتھ

دوسری جانب وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ملک کے نئے چیف جسٹس، بّری فوج کے نئے سربراہ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی تعیناتی آئین کے تحت ہو گی اور آئین کے مطابق وزیر اعظم کوان عہدوں پر تعیناتی کا اختیار حاصل ہے اور نئی تعیناتیاں اسی کے تحت کی جائیں گی۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بّری فوج کے موجودہ سربراہ جنرل کیانی کے عہدے میں تین سال کی توسیع کی گئی تھی۔

اس وقت ملک میں مسلح افواج کا سب سے اعلیٰ عہدہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بھی خالی ہے اور بّری فوج کے موجودہ سربراہ جنرل کیانی کے پاس یہ اضافی عہدہ ہے۔ جنرل کیانی 28 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں اور کمان کی تبدیلی کی تقریب 29 نومبر کو متوقع ہے۔

گذشتہ ماہ اکتوبر کو جنرل خالد شمیم وایں کی ریٹائرمنٹ کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ فی الحال چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی ذمہ داریاں برّی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو سونپ دی گئی ہیں۔

اس وقت وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ بری فوج کے نئے سربراہ اور مسلح افواج کے اعلیٰ ترین عہدیدار چیئرمین چیف آف جوائنٹ سٹاف کمیٹی کی تعیناتی کا اعلان ایک ساتھ کیا جائےگا۔

اس کے بعد وفاقی وزیرِ اطلاعات سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں عہدوں پر تعیناتی کا اعلان ایک ساتھ 28 نومبر کو کیا جائے گا۔

اسی بارے میں