منہاج برنا کے ڈیتھ سرٹیفیکٹ کی تلاش

Image caption پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے رہنما منہاج برنا سنہ 2011 میں راولپنڈی میں انتقال کر گئے تھے

پاکستان میں آزادیِ صحافت کی تحریک کے نامور رہنما منہاج برنا کی وفات کے بعد بھی سپیشل برانچ نے پیچھا نہیں چھوڑا اور پنجاب کو ان کے ڈیتھ سرٹیفیکٹ کی تلاش ہے۔

منہاج برنا کے چھوٹے بھائی اور سینیئر سیاست دان معراج محمد خان کا کہنا ہے کہ سپیشل برانچ سے دو لوگ ان کے پاس آئے تھے جن کے پاس سپیشل برانچ پنجاب کا ایک خط تھا جس میں منہاج کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ طلب کیا گیا تھا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے رہنما منہاج برنا سنہ 2011 میں راولپنڈی میں انتقال کر گئے تھے۔

معراج محمد خان کے مطابق انھوں نے سپیشل برانچ کے اہلکاروں سے پوچھا کہ وفات کے اتنے عرصے کے بعد ڈیتھ سرٹیفیکٹ کی کیا ضرورت پڑ گئی تو انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی مصدقہ دستاویز موجود نہیں اس لیے ان کا ڈیتھ سرٹیفیکٹ درکار ہے۔ میں نے انھیں بتایا کہ منہاج کا انتقال تو راولپنڈی میں ہوا اور ان کی صاحبزادی سے رابطے کریں۔

معراج محمد خان کا کہنا ہے کہ سپیشل برانچ کا خط ان کے پاس موجود ہے جو وہ دانستہ طور پر چھوڑ گئے ہیں۔ یہ خط پنجاب کی سپیشل برانچ نے سندھ کی سپیشل برانچ کو تحریر کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ منہاج کی چارج شیٹ مکمل کرکے ریکارڈ تلف کردیں۔

منہاج برنا سنہ 1925 میں بھارت کے شہر احمد آباد میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد وہ دہلی چلے گئے جہاں انھوں نے جامعہ ملیہ سے گریجویشن کی۔ انھی دنوں انھوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں شمولیت اختیار کی۔

منہاج برنا نے صحافت کی ابتدا روزنامہ ’دہلی انقلاب‘ سے کی اور پاکستان کی آزادی کے بعد وہ کراچی منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے روزنامہ ’آزاد ‘میں کام کیا اس کے بعد وہ لاہور منتقل ہوگئے جہاں روزنامہ ’امروز‘ سے منسلک رہے۔ اپنی صحافت کے کریئر کے دوران وہ کئی مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھی کام کرتے رہے۔

منہاج برنا سنہ 1969 میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے اس کے علاوہ وہ آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائیز کنفیڈریشن کے بانی چیئرمین بھی تھے۔

وفاقی اردو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ منہاج برنا نے ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور بعد میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں آزادیِ اظہار، صحافیوں اور اخبارات کے ملازمین کی بہتری کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔

پروفیسر توصیف کے مطابق سنہ 1978 کی صحافی تحریک زیادہ مقبول ہوئی جو روزنامہ ’مساوات‘ کراچی اور لاہور بند کرنے کے خلاف چلائی گئی تھی۔ اس تحریک کے دوران دونوں شہروں میں 500 سے زائد صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور مزدوروں نے گرفتاریاں پیش کیں۔

تحریک کے آخری مرحلے میں منہاج برنا نے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کی، جو 15 دن تک جاری رہی۔ بالآخر سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمان نے مذاکرات کیے جس کے بعد صحافیوں کو رہا اور ’مساوات‘ کو بحال کیا گیا۔ اسی تحریک کے دوران چار صحافیوں اقبال جعفری، ناصر زیدی، خاور نعیم ہاشمی اور مسعود اللہ خان کو کوڑوں کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کےسابق سیکرٹری جنرل مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اگر سپیشل برانچ کے پاس منہاج برنا کی ذاتی فائل ہے تو اس میں 1960 سے جنرل ضیاء الحق کی حکومت تک کا ریکارڈ ہوگا، یہ فائل ضائع نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ فائل تاریخ کا حصہ ہے۔

سینیئر صحافی مظہر عباس نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے کہ صحافیوں کے بارے میں کوئی تفتیش ہو رہی ہو جس کی بنا پر انھیں منہاج برنا کی فائل مل گئی ہو اور انھیں کسی نے آگاہ کیا ہو کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے، کیونکہ ان کے ریکارڈ کے مطابق منہاج برنا ابھی تک کراچی میں رہتے ہیں جبکہ در حقیقت انھیں کراچی سے اپنی بیٹی کے پاس پنڈی منتقل ہوئے کئی سال ہوچکے تھے۔

منہاج برنا کے چھوٹے بھائی معراج محمد خان کے مطابق وہ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو خط لکھ رہے ہیں کہ یہ فائل ریکارڈ تاریخ کا حصہ ہے، اس کو ضائع نہ کیا جائے اور اسے پاکستان فیڈرل آف یونین یا ان کے خاندان کے حوالے کیا جائے۔

اسی بارے میں